’کنگ چارلس غلاموں کی تجارت پر معافی نہیں مانگیں گے‘

Wait 5 sec.

لندن : برطانوی شاہی خاندان کے سربراہ کنگ چارلس سوم اپنے حالیہ کیریبین ممالک کے دورے کے دوران غلاموں کی تاریخی تجارت کے معاملے پر کسی قسم کی معافی نہیں مانگیں گے۔بکنگھم پیلس کے مطابق کنگ چارلس برطانوی حکومت کی قانونی اور سیاسی مشاورت کے تحت یہ قدم اٹھا رہے ہیں، تاہم وہ اس معاملے پر باقاعدہ معافی مانگنے یا مالی ہرجانہ ادا کرنے سے قطعی گریز کریں گے۔کنگ چارلس اور ملکہ کمیلا 27 اکتوبر سے 4 نومبر تک بہاماس، گیانا اور انٹیگوا و باربوڈا کا دورہ کریں گے، بکنگھم پیلس ترجمان نے کہا ہے کہ بادشاہ کے دورے کا پروگرام برطانیہ اور کیریبین ممالک کے تعلقات میں موجود تاریخی معاملات سے گریز نہیں کرے گا، تاہم اس کا بنیادی محور موجودہ دور اور مستقبل کے امکانات ہوں گے۔ترجمان کے مطابق نوآبادیاتی ورثے اور غلاموں کی تجارت کے نسل در نسل اثرات پر مختلف فورمز میں اہم مذاکرات جاری ہیں۔کنگ چارلس ماضی میں غلامی کے حوالے سے افسوس کا اظہار بھی کرچکے ہیں، جبکہ برطانوی بادشاہت کے تاریخی طور پر غلاموں کی تجارت سے تعلقات پر تحقیق کی حمایت بھی کی گئی ہے۔بکنگھم پیلس کا کہنا ہے کہ کنگ چارلس کے دورے کے دوران ماضی کی غلطیوں کو تسلیم کرنے اور ان سے پیدا ہونے والی دیرپا عدم مساوات سے نمٹنے کے لیے ان کے ذاتی عزم کا اظہار کرنے کے مواقع موجود ہوں گے، تاہم باضابطہ معافی یا مالی تلافی کا فیصلہ حکومت کے دائرہ اختیار میں آتا ہے۔غلاموں کی تجارت کا تاریخی پس منظر16ویں سے 19ویں صدی کے دوران لاکھوں افریقی باشندوں کو جبری طور پر غلام بنا کر یورپ سے امریکا اور دیگر علاقوں تک پہنچایا گیا۔رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق تاریخی ریکارڈ میں برطانیہ کو اس ٹرانس اٹلانٹک تجارت میں سب سے زیادہ سرگرم یورپی طاقتوں میں شمار کیا جاتا ہے۔اسی تاریخی پس منظر میں کیریبین اور افریقی ممالک کی جانب سے یہ سوال اٹھایا جاتا رہا ہے کہ سابق نوآبادیاتی طاقتیں غلاموں کی تجارت اور اس کے دیرپا سماجی و معاشی اثرات کے ازالے کے لیے کیا اقدامات کریں۔گزشتہ ماہ جمیکا کی حکومت نے بھی شاہ چارلس سے باضابطہ طور پر یہ درخواست کی تھی کہ وہ اس بارے میں قانونی رائے حاصل کریں کہ آیا برطانیہ کو غلاموں کی تجارت کے حوالے سے تلافی ادا کرنی چاہیے۔بکنگھم پیلس نے اس معاملے میں شاہ چارلس کی جانب سے تاریخی ناانصافیوں کو تسلیم کرنے اور موجودہ عدم مساوات سے نمٹنے کے لیے کوششوں کا حوالہ دیا ہے۔دوسری جانب برطانوی حکومت مالی تلافی کی ادائیگی کے مطالبے کو مسترد کرچکی ہے، یوں شاہ چارلس کا آئندہ کیریبین دورہ ایک ایسے وقت میں ہورہا ہے جب برطانیہ اور کیریبین ممالک کے درمیان تاریخی ورثے، غلاموں کی تجارت اور اس کے موجودہ دور پر اثرات سے متعلق بحث ایک بار پھر نمایاں ہوگئی ہے۔ریڈیو نے کنگ چارلس کے انتقال کی غلط خبر پر معافی مانگ لی