واشنگٹن: ایسوسی ایٹڈ پریس اور این او آر سی کے سروے میں انکشاف ہوا ہے کہ زیادہ تر امریکی مہنگائی کا ذمہ دار ڈونلڈ ٹرمپ کو ٹھہراتے ہیں، جب کہ معیشت سے متعلق ان کی مقبولیت کی شرح نئی کم ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔امریکی معیشت کو سنبھالنے کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے طریقوں اور بڑھتی ہوئی مہنگائی کے معاملے پر امریکیوں میں شدید مایوسی پائی جاتی ہے۔ اکثریت ان کی کارکردگی کو مسترد کر رہی ہے اور ان کی پالیسیوں کو مہنگائی کا ذمہ دار ٹھہرا رہی ہے۔ اشیا کی بڑھتی ہوئی قیمتیں نومبر میں ہونے والے انتخابات میں ان کی جماعت کے امکانات کے لیے خطرہ بھی بن چکی ہیں۔ایسوسی ایٹڈ پریس اور نورک سینٹر فار پبلک افیئرز ریسرچ کے ایک نئے سروے سے پتا چلتا ہے کہ امریکا کے صرف 17 فی صد بالغ افراد روزمرہ اخراجات برداشت کرنے کی لاگت کے معاملے میں ری پبلکن صدر کی کارکردگی سے مطمئن ہیں۔ مجموعی طور پر معیشت کو سنبھالنے کے حوالے سے صدر ٹرمپ کی کارکردگی کی تائید کرنے والوں کی شرح محض 26 فی صد ہے، جو اب تک کی نئی کم ترین سطح ہے۔اب امریکا کے بالغ افراد کی اکثریت، یعنی 65 فی صد، کا خیال ہے کہ مسلسل بڑھتی مہنگائی کا ذمہ دار ٹرمپ کی پالیسیاں ہیں۔ ٹرمپ کی جارحانہ ٹیرف پالیسی اور ایران جنگ پر بھی امریکیوں نے تشویش کا اظہار کیا۔صدر ٹرمپ کی مقبولیت 37 فی صد کی کم ترین سطح پر ہے، وال اسٹریٹ جرنلیہ مایوس کن اعداد و شمار وسط مدتی انتخابات سے محض چند ہفتے پہلے سامنے آئے ہیں۔ ان انتخابات سے طے ہوگا کہ ری پبلکنز کانگریس پر اپنا کنٹرول برقرار رکھ پاتے ہیں یا نہیں۔ ٹرمپ ووٹروں میں بدستور شدید غیر مقبول ہیں، حتیٰ کہ ری پبلکنز کی ایک بڑی تعداد بھی اس بات پر انھیں تنقید کا نشانہ بنا رہی ہے کہ وہ عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے اپنے وعدے پورے کرنے میں ناکام رہے ہیں۔گزشتہ چند ماہ کے دوران امریکیوں میں اس حوالے سے تشویش بڑھی ہے کہ آیا وہ خوراک اور گاڑیوں کے ایندھن جیسی بنیادی ضروریات کے اخراجات برداشت کر پائیں گے یا نہیں۔ اب امریکا کے تقریباً نصف بالغ افراد کہتے ہیں کہ انھیں اپنی گاڑیوں کے ٹینک ایندھن سے بھروا سکنے کے بارے میں ’’انتہائی‘‘ یا ’’بہت زیادہ‘‘ تشویش ہے۔ جولائی میں یہ شرح 39 فی صد تھی۔ تقریباً نصف امریکیوں کو خوراک کے اخراجات برداشت کرنے کے حوالے سے بھی شدید تشویش لاحق ہے۔صدر ٹرمپ کی مقبولیت کی شرح پہلی بار 29 فی صد رہ گئیمعیشت کے معاملے میں ٹرمپ کی موجودہ تائید کی شرح مارچ 2025 کے مقابلے میں 14 فی صد پوائنٹس کم ہے۔ یاد رہے کہ 2024 کی انتخابی مہم کے دوران ٹرمپ نے اپنا زیادہ تر وقت صدر جو بائیڈن اور نائب صدر کملا ہیرس، جو ڈیموکریٹس ہیں، کو مہنگائی کے معاملے پر سخت تنقید کا نشانہ بنانے اور قیمتیں کم کرنے کے وعدے کرنے میں صرف کیا تھا، لیکن اب ان کی کارکردگی پر وسیع پیمانے پر مایوسی پائی جاتی ہے۔تقریباً ہر 10 میں سے 7 امریکیوں کا کہنا ہے کہ روزمرہ اخراجات برداشت کرنے کی لاگت کے معاملے میں ٹرمپ کی کارکردگی ’’توقعات سے بدتر‘‘ رہی ہے۔ ان میں تقریباً نصف ری پبلکنز بھی شامل ہیں، جنھیں خوراک اور گاڑیوں کے ایندھن کے اخراجات برداشت کرنے کے حوالے سے بھی عمومی طور پر شدید تشویش ہے۔