آبنائے ہرمز میں کویت کے پرچم والے ٹینکر ایم ٹی کاظمہ 3 کو پروجیکٹائل لگنے کے بعد اس پر سوار 5 ہندوستانی شہریوں کو محفوظ بچا لیا گیا۔ عمان میں ہندوستانی سفارت خانے نے بچاؤ کی کارروائی میں مدد کی اور تمام ہندوستانیوں کو بحفاظت ساحل پر پہنچایا گیا۔ ہندوستانی سفارت خانے نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر پوسٹ کرتے ہوئے اس کی اطلاع دی۔ سفارت خانے نے بچاؤ کی کارروائی میں مدد کے لیے عمانی حکام کا شکریہ ادا کیا ہے۔ یہ خام تیل کا ٹینکر فی الحال کویت کے پرچم کے تحت چل رہا ہے اور ٹوگو کی راجدھانی لومے کی بندرگاہ کی جانب جا رہا ہے۔Earlier today, the Mission coordinated rescue of five Indian nationals on board the Kuwait-flagged tanker MT Kazimah III, struck by a projectile in the Strait of Hormuz.All 5 Indian nationals have been shifted ashore safely. We thank the Omani authorities for their continued…— India in Oman (Embassy of India, Muscat) (@Indemb_Muscat) October 2, 2026یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب ہندوستان خلیج فارس میں موجود ہندوستانی ملاحوں کی حفاظت پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے۔ وزارت خارجہ کے مطابق اس علاقے میں مختلف تجارتی جہازوں پر ساڑھے 4 ہزار سے زیادہ ہندوستانی ملاح سوار ہیں۔ دوسری جانب 12 مال بردار جہازوں پر تقریباً 163 ہندوستانی ملاح سوار ہیں۔ وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے گزشتہ دنوں واضح کیا تھا کہ جہازوں کی آمد و رفت اور ہندوستانی ملاحوں کی حفاظت پر ہندوستان مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے۔ انہوں نے واضح کیا تھا کہ ہندوستان بیرون ملک اپنی بحری برادری کی حفاظت کے لیے پرعزم ہے۔آبنائے ہرمز میں پھر بڑھی کشیدگی، ایرانی مال بردار جہاز پر حملہ، ایک کی موت، 4 دیگر زخمییہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب خلیج فارس، بحیرہ احمر اور بحیرہ اسود جیسے اہم سمندری راستوں میں سلامتی سے متعلق خدشات بڑھ رہے ہیں اور تجارتی جہازوں پر حملوں کے واقعات سامنے آئے ہیں۔ گزشتہ ہفتہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے بھی تجارتی جہازوں اور ملاحوں پر ہونے والے حملوں پر تشویش کا اظہار کیا تھا۔ انہوں نے اسے ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے کشیدگی کم کرنے کی اپیل کی تھی۔ ساتھ ہی انہوں نے خلیجی خطے میں شہری ملازمین کی حفاظت، توانائی کی بلا تعطل فراہمی اور عالمی تجارت کو برقرار رکھنے کے لیے فوری طور پر تحمل برتنے کی بھی اپیل کی تھی۔