انجلینا جولی نے ایک بار پھر دنیا کی توجہ غزہ کی تباہی کی جانب مبذول کرا دی

Wait 5 sec.

ہالی ووڈ اسٹار انجلینا جولی نے ایک بار پھر دنیا کی توجہ غزہ کی تباہی کی جانب مبذول کرا دی ہے۔سیٹلائٹ تصاویر سوشل میڈیا پر پوسٹ کرتے ہوئے انجلینا جولی نے لکھا غزہ ملبے کا ڈھیر بن چکا ہے، گھر، اسکول، اسپتال، سڑکیں اور بنیادی سہولتیں کچھ باقی نہیں رہا۔اداکارہ اور اقوام متحدہ کے ادارہ برائے پناہ گزین کے لیے سابق خصوصی سفیر انجلینا جولی نے انسٹاگرام پر غزہ کی جنگ سے پہلے اور جنگ کے بعد کی سیٹلائٹ تصاویر شیئر کی ہیں، جن میں تباہی کے بڑے پیمانے اور غزہ کے شہریوں کو درپیش انسانی ضروریات کو اجاگر کیا گیا ہے۔انسٹاگرام پوسٹ میں اداکارہ نے لکھا ’’اب آپ گوگل ارتھ کھول کر دیکھ سکتے ہیں کہ غزہ کے ساتھ کیا کیا گیا۔‘‘ انجلینا جولی نے کہا کہ ’’پورے کے پورے محلے ملبے کا ڈھیر بن چکے ہیں۔‘‘انھوں نے لکھا کہ گھروں، اسکولوں، جامعات، اسپتالوں، سڑکوں، پانی اور نکاسی آب کے نظام سمیت دیگر بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا یا وہ مکمل طور پر تباہ ہو گئے ہیں۔ انجلینا نے اقوام متحدہ کے سیٹلائٹ تجزیے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ 16 جون 2026 تک غزہ میں 82 فی صد عمارتوں کو نقصان پہنچ چکا تھا، جب کہ جائزہ لیے گئے ڈھانچوں میں تقریباً دو تہائی مکمل طور پر تباہ ہوچکے تھے۔ View this post on Instagram A post shared by Angelina Jolie (@angelinajolie)انجلینا جولی نے خبردار کیا کہ سردی کی آمد سے قبل 19 لاکھ 80 ہزار افراد، جو غزہ کی مجموعی آبادی کا 94 فی صد ہیں، کو پناہ گاہوں اور بنیادی ضروری اشیا کے لیے امداد درکار ہے۔انھوں نے کہا کہ امداد اور پناہ گاہوں کے لیے ضروری سامان کی فراہمی اب بھی پابندیوں اور تاخیر کا شکار ہے اور انسانی امداد شہریوں تک مطلوبہ پیمانے پر پہنچانے کی ضرورت ہے۔اسرائیلی فوج کا غزہ میں رہائشی عمارت پر حملہ، پانچ فلسطینی شہیدانجلینا نے کہا کہ سیٹلائٹ تصاویر سے تباہی کا مادی پیمانہ تو دکھائی دے سکتا ہے، لیکن وہ ان خاندانوں پر پڑنے والے اثرات کو ظاہر نہیں کر سکتیں جو اپنے افراد سے محروم ہو گئے، نہ ہی یہ بتا سکتی ہیں کہ زندہ بچ جانے والے لوگوں کی زندگی کس طرح گزر رہی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ایسے حالات پیدا کرنے کی ضرورت ہے جن میں شہری اپنے گھروں، اسکولوں، اسپتالوں اور اپنی برادریوں کو دوبارہ تعمیر کر سکیں۔اداکارہ نے لکھا ’’تباہی نظر آ رہی ہے۔ ضروریات معلوم ہیں۔ اب اہم بات یہ ہے کہ آیا یہ ضروریات پوری کی جاتی ہیں یا نہیں۔‘‘ یاد رہے کہ انجلینا اس سے قبل 3 جنوری 2026 کو مصر گئی تھیں اور انسانی ہمدردی کے دورے کے دوران رفح کراسنگ کا بھی دورہ کیا تھا۔