واشنگٹن: کینیڈا کی انٹیلیجنس رپورٹ میں بھارت کو غیر ملکی مداخلت کا دوسرا بڑا ذریعہ قرار دے دیا گیا ہے۔کینیڈین وزیر خارجہ انیتا آنند کے بھارت کے آئندہ دورے سے قبل کینیڈین سیکیورٹی انٹیلیجنس سروس CSIS کی تازہ تشخیص نے کینیڈا اور بھارت کے درمیان بہتر ہوتے سفارتی تعلقات کے باوجود سیکیورٹی خدشات کو ایک بار پھر نمایاں کر دیا ہے۔سی ایس آئی ایس کے مطابق بھارت کینیڈا میں غیر ملکی مداخلت کا دوسرا سب سے زیادہ وسیع پیمانے پر سرگرم ریاستی فریق ہے، جب کہ چین پہلے نمبر پر ہے۔کینیڈین انٹیلی جنس کے مطابق بھارت میں موجود سرکاری اہلکار، سفارت کار اور مبینہ طور پر بھارتی انٹیلیجنس سے وابستہ افراد کینیڈا میں سیاسی اور سماجی اثر اندازی کی کوششوں میں ملوث رہے ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارتی حکومت یا اس سے منسلک پراکسی نیٹ ورکس کینیڈا کی مختلف سطحوں کی حکومت، سیاسی عمل، کمیونٹی گروپس اور دیگر اداروں پر اثر انداز ہونے کی کوشش کر سکتے ہیں۔ٹرانس نیشنل ریپریشن بھی اہم تشویشکینیڈین انٹیلی جنس ایجنسی نے بھارت سے منسوب سرگرمیوں میں ٹرانس نیشنل ریپریشن یعنی سرحدوں سے باہر رہنے والے مخالفین، کارکنوں یا ناقدین کو دباؤ، نگرانی، دھمکی یا دیگر ذرائع سے خاموش کرنے کی کوششوں کو بھی نمایاں کیا ہے۔کینیڈین انٹیلیجنس کے مطابق ٹرانس نیشنل ریپریشن میں نگرانی، دھمکیاں، خاندان کے افراد پر دباؤ، سفر یا ویزا سے متعلق پابندیاں، معلوماتی مہمات اور دیگر جبری حربے شامل ہو سکتے ہیں۔ ایسی سرگرمیوں کا مقصد بعض اوقات حکومت مخالف آوازوں کو خاموش کرنا اور مخصوص کمیونٹیز میں خوف پیدا کرنا ہوتا ہے۔رپورٹ میں خاص طور پر کینیڈا میں خالصتان تحریک کے حامیوں اور اس معاملے پر بھارتی حکومت کے ردعمل کا ذکر کیا گیا ہے۔ تاہم ادارے نے واضح کیا کہ خالصتان کے قیام کی پرامن اور غیر پرتشدد حمایت بذاتِ خود انتہا پسندی نہیں اور کینیڈا میں پرامن سیاسی و قانونی اظہار کی اجازت ہے۔نجر قتل کیس نے کینیڈا، بھارت تعلقات کو متاثر کیاکینیڈا اور بھارت کے تعلقات میں شدید کشیدگی اس وقت پیدا ہوئی جب کینیڈا کے سابق وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو نے 2023 میں سکھ رہنما ہردیپ سنگھ نجر کے قتل میں بھارتی ایجنٹوں کے ممکنہ ملوث ہونے کے الزامات عائد کیے۔بھارت نے ان الزامات کی تردید کی اور کینیڈا پر خالصتان تحریک سے وابستہ افراد کو پناہ دینے کا الزام عائد کیا۔ تاہم بعد میں کینیڈین حکام نے بھارتی ریاست سے منسوب مبینہ سرگرمیوں کے حوالے سے مزید تحقیقات اور شواہد کا ذکر کیا۔رائل کینیڈین ماؤنٹڈ پولیس نے 2026 میں بھی تصدیق کی کہ بھارتی حکومت سے مبینہ طور پر منسلک مجرمانہ سرگرمیوں کے حوالے سے تحقیقات جاری ہیں، تاہم پولیس نے آپریشنل وجوہ کی بنا پر تفصیلات فراہم کرنے سے گریز کیا۔امریکا میں مبینہ قتل کی سازش بھی پس منظر کا حصہبھارت سے متعلق ٹرانس نیشنل ریپریشن کا معاملہ صرف کینیڈا تک محدود نہیں رہا۔ امریکا میں سکھ رہنما گرپتونت سنگھ پنوں کے قتل کی مبینہ سازش کے معاملے میں امریکی محکمہ انصاف کی کارروائی نے بھی اس تنازعے کو عالمی سطح پر نمایاں کیا۔امریکی استغاثہ کے مطابق ایک مبینہ قتل کی سازش میں بھارتی انٹیلی جنس سے منسلک ایک شخص کا نام سامنے آیا تھا۔ بھارت نے ان الزامات کی تردید کی ہے، جب کہ امریکی عدالتی کارروائی میں گرفتار ملزم کے خلاف مقدمہ آگے بڑھا۔ یہ معاملہ واشنگٹن اور نئی دہلی کے تعلقات میں بھی حساس مسئلہ بن چکا ہے۔انیتا آنند کا بھارت کا آئندہ دورہرپورٹس کے مطابق انیتا آنند اکتوبر کے وسط میں بھارت کا دورہ کر سکتی ہیں، اگرچہ 3 اکتوبر تک اس دورے کا باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا۔ اطلاعات کے مطابق دورے کے دوران جے شنکر کے ساتھ دوطرفہ تعلقات، تجارتی مذاکرات اور دونوں ملکوں کے درمیان طے شدہ روڈ میپ پر عمل درآمد کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔یہ انیتا آنند کا وزیر خارجہ بننے کے بعد بھارت کا ممکنہ طور پر تیسرا دورہ ہوگا۔ اس سے قبل وہ اکتوبر 2025 اور مارچ 2026 میں بھارت جا چکی ہیں۔