گیانیش کمار کے خلاف نوجوانوں کا زوردار مظاہرہ، 700 افراد حراست میں، کانگریس نے شیئر کی ’بھوت‘ کی ویڈیو

Wait 5 sec.

ایس آئی آر میں مبینہ بے ضابطگی کی خبروں سے ناراض نوجوانوں نے آج دہلی کی سڑکوں پر نکل کر نہ صرف چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کا استعفیٰ طلب کیا، بلکہ مودی حکومت کو بھی نشانے پر لیا۔ دہلی کے جنتر منتر پر آج صبح سے ہی نوجوانوں کی بڑی تعداد پہنچنے لگی تھی، جس کے پیش نظر سیکورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے۔ ایک طرف بڑی تعداد میں نوجوانوں نے این ایس یو آئی چیف ونود جاکھڑ کی قیادت میں پیدل امن مارچ نکالتے نظر آئے، تو دوسری طرف جنتر منتر پر انڈین یوتھ کانگریس کے صدر اودے بھانو چب کی قیادت میں ہزاروں لوگ ووٹ چوری کے خلاف فلک شگاف نعرے لگاتے نظر آئے۔ज्ञानेश कुमार देशद्रोही है- उसका इस्तीफा और गिरफ्तारी हो। आज NSUI के साथियों ने @nsui अध्यक्ष @VinodJakharIN जी के नेतृत्व में पैदल शांति मार्च कर, अपनी इस मांग को बुलंद किया। लेकिन...'वोट चोरी' के एजेंट को बचाने के लिए BJP ने सारी ताकत झोंक दी। युवाओं पर पुलिसिया बर्बरता… pic.twitter.com/VERIgBItpn— Congress (@INCIndia) October 2, 2026ان احتجاجی مظاہروں کے درمیان کئی مواقع ایسے آئے جب دہلی پولیس اور سیکورٹی اہلکاروں نے نوجوانوں کے ساتھ ساتھ بزرگوں کے خلاف بھی طاقت کا استعمال کیا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق دہلی میں کم و بیش 700 لوگوں کو پولیس نے حراست میں لے لیا ہے، جن میں معروف سماجی کارکن یوگیندر یادو، آل انڈیا اسٹوڈنٹس ایسو سی ایشن کی صدر نیہا بورا اور عآپ لیڈر آتشی جیسی شخصیات شامل ہیں۔ یوگیندر یادو نے تو اپنے ’ایکس‘ ہینڈل سے حراست میں لیے جانے والی اپنی تصویر بھی شیئر کی ہے، جس کے ساتھ لکھا ہے کہ ’’دم ہے کتنا دمن (استحصال) میں تیرے، دیکھ لیا ہے دیکھیں گے...۔‘‘दम है कितना दमन में तेरे, देख लिया है देखेंगे..#JantarMantarSatyagraha pic.twitter.com/Gf9siA9uyJ— Yogendra Yadav (@_YogendraYadav) October 2, 2026یوگیندر یادو نے حراست میں لیے جانے کے بعد کی ایک ویڈیو بھی شیئر کی ہے، جس میں وہ مودی حکومت اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف نوجوانوں کے احتجاج کو برطانوی حکومت کے خلاف مجاہدین آزادی کی جنگ جیسا بتا رہے ہیں۔ انھوں نے اس ویڈیو کے ساتھ لکھا ہے کہ ’’پارلیمنٹ میں تحریک مواخذہ ہونے دیا جائے یا نہ ہونے دیا جائے، دہلی کی سڑک پر ’مکھیہ چناؤ ابھیُکت (ملزم)‘ گیانیش کمار کے خلاف تحریک مواخذہ شروع ہو چکی ہے۔ بی جے پی اور گیانیش کی جگل بندی اب ملک برداشت نہیں کرے گا۔‘‘ ساتھ ہی انھوں نے ’گیانیش کمار استعفیٰ دو! ایس آئی آر رَد کرو!‘‘ نعرہ بھی لکھا ہے۔संसद में इम्पीचमेंट होने दिया जाए या ना होने दिया जाए, दिल्ली की सड़क पर मुख्य चुनाव ‘अभियुक्त’ ज्ञानेश कुमार के खिलाफ़ इम्पीचमेंट शुरू हो चुका है।भाजपा और ज्ञानेश कुमार की जुगलबंदी अब देश नहीं सहेगा।ज्ञानेश कुमार इस्तीफ़ा दो!SIR रद्द करो!#JantarMantarSatyagraha pic.twitter.com/S9pKFHN3kL— Yogendra Yadav (@_YogendraYadav) October 2, 2026اس درمیان کانگریس نے ایک انتہائی دلچسپ ویڈیو شیئر کی ہے، جس میں ’بھوت‘ گیانیش کمار کے خلاف احتجاج درج کراتا ہوا دکھائی دے رہا ہے۔ اس ویڈیو کے ساتھ کانگریس نے لکھا ہے کہ ’’اس زندہ بھوت کو سنیے... یہ ’ووٹ چور‘ گیانیش کو جیل بھیجنے کا عزم کر کے نکلا ہے۔ اب گیانیش کا بچنا مشکل ہے۔‘‘ اس ’بھوت‘ کے بارے میں پوچھنے پر اودے بھانو چب نے میڈیا سے کہا کہ ’’یوتھ کانگریس جنتر منتر پر بھوت بن کر آئے ہیں، کیونکہ لوگوں کے ووٹ کاٹ دیے گئے ہیں۔ ایسے میں وہ کیا کریں گے، وہ تو پھر بھوت ہی ہیں نہ!‘‘इस 'जिंदा भूत' को सुनिए..ये 'वोट चोर' ज्ञानेश को जेल भेजने की ठान कर निकला है। अब ज्ञानेश का बचना मुश्किल है। pic.twitter.com/FlRMHx50nn— Congress (@INCIndia) October 2, 2026کانگریس نے ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں بی جے پی کو طنز کا نشانہ بناتے ہوئے ’ووٹ چور کہاں ملے گا، بی جے پی کے دفتر میں‘ نعرہ بھی لکھا ہے۔ گیانیش کمار کے استعفیٰ کا مطالبہ کرتے ہوئے احتجاجی مظاہرہ کی ایک ویڈیو شیئر کرتے ہوئے کانگریس نے لکھا ہے کہ ’’آج جنتر منتر پر اودے بھانو چب کی قیادت میں آئی وائی سی کے نوجوان ساتھیوں نے ’ووٹ چوری‘ کے خلاف زوردار احتجاجی مظاہرہ کیا۔ مودی-گیانیش کے سیاہ کارنامے ملک کے سامنے آ چکے ہیں، کسی کو بخشا نہیں جائے گا، اب حساب ہوگا۔‘‘'वोट चोर कहां मिलेगा - BJP के दफ्तर में'आज जंतर-मंतर पर अध्यक्ष @UdayBhanuIYC जी के नेतृत्व में IYC के युवा साथियों ने 'वोट चोरी' के खिलाफ जोरदार विरोध प्रदर्शन किया।मोदी-ज्ञानेश की काली करतूत देश के सामने आ चुकी है, किसी को बख्शा नहीं जाएगा, अब हिसाब होगा। दिल्ली pic.twitter.com/VhJAB1ztrE— Congress (@INCIndia) October 2, 2026آج مودی-گیانیش کے خلاف احتجاجی مظاہروں میں کئی سیاسی و سماجی تنظیموں کے نوجوان پیش پیش نظر آئے۔ سی پی آئی-ایم نے نوجوانوں، طلبا اور ان بڑی تعداد میں جمع ہوئے لوگوں کی مبارکباد بھی پیش کی، جنھوں نے آج سبھی پابندیوں کا سامنا کرتے ہوئے دہلی کی سڑکوں پر نکل کر احتجاجی مظاہرہ کیا۔ پارٹی نے عوام سے یہ اپیل بھی کی کہ وہ بڑی تعداد میں اس طرح کے مظاہروں میں شامل ہو کر جاری جدوجہد کو مزید مضبوطی فراہم کریں۔ ساتھ ہی عزم ظاہر کیا کہ جمہوریت کو بچانے اور الیکشن کمیشن جیسے اداروں کی غیر جانبداری بنائے رکھنے کے لیے یہ تحریک جاری رہے گی۔