اندور: مدھیہ پردیش اسمبلی میں قائد حزب اختلاف امنگ سنگھار نے اندور کے بھاگیرتھ پورہ میں آلودہ پانی پینے سے ہونے والی اموات کے معاملے میں تشکیل دیے گئے عدالتی تحقیقاتی کمیشن کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ رپورٹ میں 22 اموات کا تعلق آلودہ پانی سے پایا گیا ہے۔اندور کی ریذیڈنسی میں بھاگیرتھ پورہ آلودہ پینے کے پانی کے سانحے اور عدالتی تحقیقاتی رپورٹ کے حوالے سے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے امنگ سنگھار نے کہا کہ یہ واقعہ صفائی کے معاملے میں ملک بھر میں شناخت رکھنے والے اندور شہر میں شہریوں کی زندگی، محفوظ پینے کے پانی، انتظامی جواب دہی اور شہری نظام سے متعلق سنگین سوالات اٹھاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کی جانب سے تشکیل دیے گئے عدالتی تحقیقاتی کمیشن نے پینے کے پانی کی آلودگی کی وجوہات، بیماریوں اور اموات، انتظامی و تکنیکی خامیوں اور ذمہ داری کی جانچ کی۔ کمیشن کی رپورٹ میں پینے کے پانی کے آلودہ ہونے، انتظامی تاخیر اور اہم تکنیکی ریکارڈ دستیاب نہ کرائے جانے سے متعلق اہم حقائق سامنے آئے ہیں۔امنگ سنگھار نے کہا کہ اندور ملک کے صاف ترین شہروں میں اپنی شناخت رکھتا ہے، لیکن بھاگیرتھ پورہ کے واقعے نے شہریوں کو فراہم کیے جانے والے پینے کے پانی کی حفاظت پر سنگین سوالات کھڑے کیے ہیں۔اندور میں پانی بحران پر کانگریس کا احتجاج، مٹکے پھوڑ کر نعرے بازی، شدید تحریک کا انتباہانہوں نے بتایا کہ مدھیہ پردیش ہائی کورٹ نے پینے کے پانی کی آلودگی، اموات اور بیماریوں کی وجوہات، انتظامی ناکامیوں اور ذمہ داری کی جانچ کے لیے عدالتی تحقیقاتی کمیشن تشکیل دیا تھا۔ کمیشن نے اگست 2026 میں اپنی رپورٹ پیش کی، جس کے بعد ہائی کورٹ نے رپورٹ کو اپنی سرکاری ویب سائٹ پر اپ لوڈ کرنے کی ہدایت دی۔سنگھار نے کمیشن کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بھاگیرتھ پورہ میں فراہم کیا جانے والا پینے کا پانی آلودہ اور انسانی استعمال کے لیے ناموزوں پایا گیا۔ تحقیقات میں سیوریج کے پینے کے پانی کی پائپ لائن میں داخل ہونے کو آلودگی کی بنیادی وجہ بتایا گیا ہے۔مدھیہ پردیش: اندور کے بھاگیرتھ پورہ میں مزید دو اموات، آلودہ پانی سے جاں بحق افراد کی تعداد 35 ہو گئیرپورٹ کے مطابق کمیشن نے بھاگیرتھ پورہ معاملے میں 36 اموات کا جائزہ لیا، جن میں سے 22 اموات کو آلودہ پانی سے متعلق قرار دیا گیا۔ رپورٹ میں پانی اور سیوریج کے نظام کی منصوبہ بندی، دیکھ بھال، نگرانی اور انتظامی نگرانی میں بھی نظامی خامیوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔قائد حزب اختلاف نے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 21 کے تحت زندگی کے حق میں محفوظ اور صاف پینے کے پانی کی بنیادی ضرورت بھی شامل ہے۔ ان کے مطابق اندور جیسے بڑے شہری اور اقتصادی مرکز میں، جہاں انتظامی وسائل موجود ہیں، اس نوعیت کا واقعہ انتہائی تشویش ناک ہے۔ امنگ سنگھار نے کہا کہ کمیشن کی رپورٹ میں سامنے آنے والے حقائق کی روشنی میں پانی کی فراہمی اور سیوریج کے نظام کی خامیوں کو دور کرنے کے ساتھ ذمہ داری بھی طے کی جانی چاہیے، تاکہ مستقبل میں شہریوں کو اس طرح کے سانحات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔