کروڑ پتی برطانوی ٹیکس بڑھانے کا مطالبہ کیوں کرنے لگے؟

Wait 5 sec.

لندن : برطانیہ میں انتہائی امیر لوگوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے مگر دوسری جانب غربت اور معاشی مشکلات بھی بڑھ رہی ہیں تاہم بعض کروڑ پتی افراد ٹیکس کے ذریعے اس خلیج کو کم کرنا چاہتے ہیں۔اس صورتحال کے باعث بعض کروڑ پتی افراد نے حیرت انگیز طور پر دولت کی بڑھتی ہوئی خلیج کم کرنے کے لیے امیر طبقے پر اضافی ٹیکس عائد کرنے کی حمایت کردی ہے۔دولت مند افراد کے گروپ ’پیٹریاٹک ملینئرز‘ سے وابستہ اسٹیفن کیسیلا کا کہنا ہے کہ امیر افراد ملک کی موجودہ صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے زیادہ ٹیکس ادا کرسکتے ہیں۔ان کے بقول دولت پر 2 فیصد ٹیکس عائد کیا جائے تو اس سے ہر سال تقریباً 24 ارب پاؤنڈ حاصل کیے جاسکتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ یہ ایک بڑی رقم ہوگی جسے برطانیہ میں عوامی سہولتوں اور بنیادی ضروریات پر خرچ کیا جاسکتا ہے۔ان میں کم قیمت اور بہتر رہائش کی فراہمی بھی شامل ہے، کیونکہ مکانات کے بڑھتے ہوئے کرائے اور رہائشی اخراجات غریب اور متوسط طبقے کے لیے مشکلات میں اضافے کی بڑی وجوہات میں شمار ہوتے ہیں۔پیٹریاٹک ملینئرز کا مؤقف ہے کہ دولت مند طبقے پر 2 فیصد ٹیکس عائد کرنے سے عام شہریوں کی زندگیوں پر کوئی نمایاں منفی اثر نہیں پڑے گا۔گروپ سے وابستہ افراد کا کہنا ہے کہ وہ ایسی رقم کی بات کررہے ہیں جو ان کی روزمرہ زندگی یا بنیادی ضروریات کو متاثر نہیں کرے گی، لیکن اسی رقم سے معاشرے کے کم آمدنی والے طبقات کے لیے نمایاں سہولتیں پیدا کی جاسکتی ہیں۔دوسری جانب برطانوی حکومت امیر طبقے پر مزید ٹیکسوں کا بوجھ ڈالنے کے معاملے میں محتاط دکھائی دیتی ہے۔حکومت کا مؤقف ہے کہ اگر ٹیکسوں میں غیرمعمولی اضافہ کردیا گیا تو اس سے معاشی سرگرمیوں اور اقتصادی ترقی کی رفتار متاثر ہوسکتی ہے، جو مجموعی طور پر ملک کے لیے نقصان دہ ہوگا۔حکام کا کہنا ہے کہ دولت مند افراد پر ٹیکس عائد کرنے کے معاملے میں ایک متوازن، منظم اور سوچا سمجھا طریقہ اختیار کرنے کی ضرورت ہے تاکہ حکومت اضافی آمدنی بھی حاصل کرسکے اور معاشی ترقی بھی متاثر نہ ہو۔دوسری جانب مختلف جائزوں کے مطابق برطانوی عوام میں دولت پر ٹیکس عائد کرنے کی حمایت پائی جاتی ہے۔ پیٹریاٹک ملینئرز کا کہنا ہے کہ حکومت کو اس معاملے پر فیصلہ کرنے کے لیے سیاسی عزم کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔گروپ سے وابستہ افراد کا کہنا ہے کہ ایسے معاشرے میں رہنا قابل قبول نہیں جہاں ایک طبقہ غیر معمولی دولت جمع کرتا رہے جبکہ دوسری جانب بڑی تعداد میں لوگ بنیادی ضروریات پوری کرنے میں بھی مشکلات کا سامنا کریں۔ان کا مؤقف ہے کہ سیاست دانوں کو چند انتہائی دولت مند افراد کے مفادات کے بجائے وسیع تر عوامی خواہشات اور معاشرتی ضرورتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے پالیسیاں تشکیل دینی چاہئیں، یوں برطانیہ میں دولت کی منصفانہ تقسیم اور امیر طبقے پر اضافی ٹیکس کا معاملہ ایک بار پھر سیاسی اور معاشی بحث کا اہم موضوع بن گیا ہے۔ برطانیہ کے امیر ترین افراد کی فہرستیاد رہے کہ رواں سال مئی 2026 کی رپورٹ کے مطابق برطانیہ کے امیر ترین افراد کی فہرست میں سر ڈیوڈ بیکہم برطانیہ کے پہلے ارب پتی کھلاڑی بنے۔ٹائیسن فیوری اور گالاگھر برادران پہلی بار اس فہرست میں داخل ہوئے جبکہ ریولوٹ ٹائیکون کی دولت میں 26 ملین پاؤنڈ کا اضافہ دیکھا گیا۔برطانوی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق سر ڈیوڈ بیکہم اور انکی اہلیہ وکٹوریہ نے گزشتہ سال اپنی دولت کو دوگنا کرنے کا ہدف پورا کیا تھا۔دنیا کے امیر ترین افراد کی دولت میں اضافہ کیوں ہورہا ہے؟ ہوشربا رپورٹ‌