راجدھانی دہلی میں انڈیا بلاک کی میٹنگ کے بعد سبھی سرکردہ لیڈران نے ایک پریس بریفنگ میں حصہ لیا، جس میں میڈیا اہلکاروں کے سامنے کچھ اہم باتیں رکھی گئیں۔ خصوصاً کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے بتایا کہ میٹنگ میں سبھی پارٹیوں نے 5 خاص نکات پر اتفاق کا اظہار کیا ہے، جس پر یکجہتی کے ساتھ کام کیا جائے گا۔ ملکارجن کھڑگے نے جن 5 نکات کا ذکر کیا، وہ اس طرح ہیں:INDIA गठबंधन की बैठक में सभी दलों ने 5 बिंदुओं पर अपनी सहमति जताई है। हम इन मुद्दों पर डटकर काम करेंगे 1. ये सहमति बनी कि SIR और मतदाता सूची में हेरफेर तथा चुनाव की निष्पक्षता के संबंध में भारत के मुख्य न्यायाधीश को एक पत्र भेजा जाएगा। ये पत्र उन्हें शीघ्र ही सौंपा जाएगा।… pic.twitter.com/P6UaoAQo9T— Congress (@INCIndia) June 8, 2026یہ اتفاق قائم ہوا کہ ایس آئی آر اور ووٹر لسٹ میں ہیرا پھیری اور انتخابات کی غیر جانبداری کے سلسلے میں ہندوستان کے چیف جسٹس کو ایک خط بھیجا جائے گا۔ یہ خط انھیں جلد ہی حوالے کیا جائے گا۔لاکھوں طلبا کو متاثر کرنے والے کئی سنگین ایشوز کی حالت کو دیکھتے ہوئے یہ اتفاق رائے سے فیصلہ لیا گیا کہ وزیر تعلیم کو فوراً استعفیٰ دینا چاہیے۔ ایسا اس لیے کیونکہ ان کی مدت کار میں نیٹ اور سی بی ایس ای امتحانات میں لاکھوں نوجوانوں کے ساتھ دھوکہ ہوا ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ آج لاکھوں نوجوان سڑکوں پر کھڑے ہیں۔موجودہ وقت میں بڑھتے سنگین معاشی حالات، بڑھتی بے روزگاری، مہنگائی، مظالم اور کسانوں کے ایشوز کو ہم اٹھاتے رہیں گے۔ مرکزی حکومت کو عوامی سروکار سے جڑے ایشوز پر ایک کل جماعتی میٹنگ طلب کرنی چاہیے، جس میں ہم ان سارے ایشوز کو ان کے سامنے رکھیں گے۔انڈیا بلاک کی سبھی پارٹیاں ہر 2 مہینے میں میٹنگ کریں گے۔ ہماری اگلی میٹنگ اگست میں حیدر آباد میں ہوگی۔مانسون اجلاس کے دوران پارلیمانی کوآرڈنیشن جاری رہے گا اور ہر صبح حزب اختلاف کے قائد کے دفتر میں کوآرڈنیشن میٹنگ منعقد کی جائے گی۔