میناکشی نٹراجن کی نامزدگی مسترد ہونے پر کانگریس کا احتجاج، جیتو پٹواری بولے- ’گرفتاری دینے کو تیار‘

Wait 5 sec.

نئی دہلی: مدھیہ پردیش سے کانگریس کی رہنما میناکشی نٹراجن کی راجیہ سبھا نامزدگی مسترد کیے جانے کے خلاف کانگریس نے جمعہ کو نئی دہلی میں احتجاج کیا۔ احتجاج کے دوران مدھیہ پردیش کانگریس کے صدر جیتو پٹواری نے کہا کہ اگر انہیں احتجاج کرنے کی اجازت نہیں دی جاتی تو وہ گرفتاری دینے کے لیے بھی تیار ہیں۔احتجاج کے موقع پر ذرائع ابلاغ سے گفتگو کرتے ہوئے جیتو پٹواری نے کہا کہ اگر الیکشن کمیشن ان کی بات نہیں سنتا، صدر جمہوریہ ان کی اپیل پر توجہ نہیں دیتے اور انہیں سڑکوں پر احتجاج کرنے کی اجازت بھی نہیں دی جاتی تو ان کے پاس گرفتاری دینے کے سوا کوئی راستہ نہیں بچے گا۔ انہوں نے کہا کہ وہ جیل جانے کے لیے بھی تیار ہیں لیکن اپنے جمہوری حق سے دستبردار نہیں ہوں گے۔جیتو پٹواری نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ملک کے عوام کو یہ دیکھنا چاہیے کہ حکومت کا رویہ کس قدر غیر جمہوری ہو چکا ہے۔ ان کے مطابق احتجاجی مارچ نکالنا کوئی جرم نہیں ہے لیکن حکومت اختلافی آوازوں کو دبانے کی کوشش کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکومت انہیں گرفتار کرنا چاہتی ہے تو وہ اس کے لیے بھی تیار ہیں۔احتجاج سے قبل کانگریس کے رکن اسمبلی جے وردھن سنگھ نے بھی معاملے پر سخت ردعمل ظاہر کیا۔ انہوں نے کہا کہ پہلے انتخابات میں ووٹ چوری کی باتیں سننے کو ملتی تھیں لیکن اب تو انتخابات سے پہلے ہی نشست چوری کرنے کا کھیل شروع ہو گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جس طرح میناکشی نٹراجن کی نامزدگی کو مسترد کیا گیا، اس نے کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔بھارتیہ جنتا پارٹی کے اس دعوے پر کہ میناکشی نٹراجن کے بارے میں معلومات تلنگانہ کانگریس سے حاصل ہوئی تھیں، جے وردھن سنگھ نے کہا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی پہلے ووٹ چوری اور اب نشست چوری کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بچپن سے یہ سکھایا جاتا ہے کہ چوروں کی باتوں پر بھروسہ نہیں کرنا چاہیے۔کانگریس کے ایک اور رکن اسمبلی وکرانت بھوریا نے میناکشی نٹراجن کی نامزدگی مسترد ہونے کو جمہوریت کے لیے سیاہ دن قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ان کے خلاف کوئی ایف آئی آر تک درج نہیں تھی، اس کے باوجود انہیں انتخابی عمل سے باہر کر دیا گیا۔ وکرانت بھوریا نے کہا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی خواتین کو 33 فیصد ریزرویشن دینے کی بات کرتی ہے لیکن اپنے راجیہ سبھا امیدواروں میں ایک بھی خاتون کو موقع نہیں دیا گیا۔کانگریس رہنما کنال چودھری نے بھی اس معاملے کو آئین اور جمہوریت کے خلاف قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ گاندھی وادی نظریات رکھنے والی ایک خاتون رہنما کو انتخابی میدان سے دور رکھنے کے لیے سازش کی گئی۔ ان کے مطابق میناکشی نٹراجن کے خلاف نہ کبھی کوئی مقدمہ درج ہوا اور نہ ہی کوئی ایف آئی آر، اس کے باوجود ایک نجی نوٹس اور نجی شکایت کی بنیاد پر ان کی نامزدگی روک دی گئی، جو جمہوری اقدار کے منافی ہے۔