امریکی وزیرجنگ پیٹ ہیگستھ کا کہنا ہے کہ ایران کے ساتھ بہترین امن معاہدہ بہت جلد طے پانے کا امکان ہے۔اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ ٹرمپ ایسے معاہدے کے لیے پرُعزم ہیں جو امریکا کے مفاد میں ہو، ٹرمپ ایسا معاہدہ چاہتے ہیں جو ایران کو ایٹمی ہتھیاروں کی دوڑ سے باہر کر دے تاہم معاہدہ نہ ہوا تو ایران کو جوہری ہتھیار بنانے سے روکنےکیلئے تیار ہیں۔وزیر جنگ کا کہنا تھا کہ عارضی جنگ بندی کے باوجود دونوں طرف سے حملے ہو رہے ہیں جب بھی ایران تجارتی راستوں پر حملہ کرتا ہے تو امریکی فوج جواب دیتی ہے۔ٹرمپخبر رساں ایجنسی روئٹرز کی رپورٹ کے مطابق امریکی صدر نے این بی سی نیوز کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ وہ امن معاہدہ طے پانے سے پہلے نہ تو ایران کے منجمد اثاثے بحال کریں گے اور نہ ہی پابندیاں اٹھائیں گے، ان اقدامات پر معاہدہ مکمل ہونے کے بعد غور کیا جائے گا۔ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ’یہ سب کچھ بعد میں ہوگا۔ ہاں اگر انہوں نے صحیح رویہ اپنایا اگر انہوں نے اچھا کام کیا تو ہم بات چیت شروع کریں گے‘۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ میں اس بات کا مطالبہ نہیں کر رہا کہ لبنان ایران کے ساتھ ہونے والے کسی قلیل مدتی معاہدے کا حصہ بنے، میرے خیال میں وہ ایسا دیکھنا چاہیں گے لیکن میں مطالبہ نہیں کر رہا۔ڈونلڈ ٹرمپ نے این بی سی نیوز کو بتایا کہ ’ہم ایک معاہدے کے بہت قریب ہیں ورنہ میں ان کا نام و نشان مٹا دوں گا‘۔امریکی صدر کا کہنا تھا کہ وہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای سے بات کرنے کیلیے تیار ہیں جو تنازع کے آغاز میں امریکی حملوں میں زخمی ہونے کے بعد سے عوامی سطح پر نظر نہیں آئے۔