ایک اور ایئرلائن کی پروازیں اچانک بند، ملازمین فارغ

Wait 5 sec.

امریکا کی جانب سے ایران پر حملوں اور خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث ایندھن کی قیمتوں میں اضافے سے عالمی فضائی صنعت شدید مشکلات کا شکار ہے، ایک اور ایئرلائن کی پروازیں اچانک بند ہوگئی۔جنگ کے بعد سے اب تک متعدد بین الاقوامی ایئرلائنز نے مشرق وسطیٰ کے لیے پروازیں منسوخ کردی ہیں، فضائی حدود کی بندش کے سبب ہزاروں پروازوں کو طویل متبادل راستے اختیار کرنے پڑ رہے ہیں اور ایندھن کی قیمتوں میں اضافے سے کرایوں میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے۔غیر ملکی میڈیا رپورٹ کے مطابق عالمی فضائی صنعت کو شدید مالی بحران کا سامنا ہے، اسی سلسلے میں ایک اور فضائی کمپنی نے دیوالیہ پن کی درخواست دائر کرتے ہوئے اپنی پروازیں منسوخ کردی ہیں۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مختلف ممالک کی کئی ایئرلائنز حالیہ ہفتوں میں یا تو مکمل طور پر بند کردی گئی ہیں یا پھر مالی تحفظ کے لیے دیوالیہ پن کی کارروائی کا سہارا لے رہی ہیں۔رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ کم لاگت والی فضائی کمپنی اسپرٹ ایئرلائنز نے مئی کے آغاز میں اپنی تمام پروازیں منسوخ کرکے آپریشن مکمل طور پر بند کردیا تھا۔مذکورہ کمپنی کے حوالے سے یہ امید ظاہر کی جارہی تھی کہ وہ آخری وقت میں مالی بحران سے نکل آئے گی، تاہم ایسا ممکن نہ ہوسکا۔اسی طرح میکسیکو کی ہالیڈے ایئرلائن میگنی چارٹرز نے بھی گزشتہ ماہ میکسیکو سٹی میں دیوالیہ پن کے تحفظ کے لیے درخواست دائر کردی تھی، کمپنی نے اپریل میں عارضی طور پر دو ہفتوں کے لیے پروازیں معطل کی تھیں لیکن بعد میں مالی بحران مزید شدت اختیار کرگیا۔حالیہ ہفتوں میں دیگر فضائی کمپنیوں میں چین کی علاقائی ایئرلائن جوئے ایئر اور برطانوی فضائی کمپنی زینتھ ایوی ایشن بھی شدید مالی مسائل کے باعث بندش یا دیوالیہ پن کا شکار ہوچکی ہیں۔رپورٹ کے مطابق بحران صرف کمرشل ایئرلائنز تک محدود نہیں رہا بلکہ نیدرلینڈز میں قائم ہائبرڈ الیکٹرک طیارے تیار کرنے والی کمپنی مایو ایرو اسپیس کو بھی جون کے آغاز میں ڈچ عدالت نے دیوالیہ قرار دے دیا۔ اس کمپنی نے ماضی میں ڈیلٹا ایئر لائنز جیسی بڑی فضائی کمپنیوں کی توجہ حاصل کی تھی۔کچھ ملازمین نے دعویٰ کیا ہے کہ انہیں مائیکروسافٹ ٹیمز میٹنگ کے دوران ملازمت ختم کیے جانے کی اطلاع دی گئی، جس کے بعد سوشل میڈیا پر بھی شدید ردعمل سامنے آیا۔ماہرین کے مطابق عالمی سطح پر ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ، سفری اخراجات اور معاشی دباؤ فضائی صنعت کے لیے بڑے خطرات بن چکے ہیں۔