دبئی (13 جون 2026): متحدہ عرب امارات (یو اے ای) نے ایران کے منجمد اربوں ڈالر حوالے کرنے پر رضا مندی ظاہر کر دی ہے۔روئٹرز کے مطابق ذرائع نے بتایا کہ متحدہ عرب امارات نے مجموعی طور پر 10 ارب ڈالر جاری کرنے پر اتفاق کیا ہے، جن میں سے 3 ارب ڈالر سے زائد پہلے ہی فراہم کیے جا چکے ہیں۔اس معاملے سے واقف ذرائع نے بتایا کہ مجموعی رقم 20 ارب ڈالر ہے، اور یہ اقدام ایران کی جانب سے یو اے ای پر حملے روکنے کے بدلے میں کیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق 3 ارب ڈالر کی پہلی قسط پہلے ہی دے دی گئی ہے۔روئٹرز اس بات کی تصدیق نہیں کر سکا کہ منتقل کی جانے والی رقوم متحدہ عرب امارات کی اپنی ہیں یا یہ وہ ایرانی فنڈز ہیں جو طویل عرصے سے اماراتی بینکاری نظام یا دیگر مقامات پر منجمد تھے۔کیپیٹل ہل حملہ آوروں کو معاوضہ دینے کی ٹرمپ کی کوشش ناکام، جج کا فیصلہ جاریایران کے لیے اربوں ڈالر کی رقوم جاری کرنے پر اتفاق کرنے کا یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ امریکا اور اسرائیل کی جنگ کے دوران ایران نے گزشتہ چند ہفتوں میں خلیجی عرب ریاست پر متعدد حملے کیے تھے۔ دوسری طرف تہران اور واشنگٹن کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لیے جاری وسیع تر مذاکرات آخری مراحل میں نظر آ رہے ہیں۔ سفارتی ذرائع کے مطابق ان مذاکرات میں امریکی پابندیوں کے باعث غیر ملکی بینکوں میں منجمد ایرانی تیل کی آمدنی کے دسیوں ارب ڈالر بھی جاری کیے جا سکتے ہیں۔تاہم، یو اے ای کی وزارتِ خارجہ نے ہفتے کی صبح ایک بیان جاری کرتے ہوئے ان خبروں کی واضح طور پر تردید کی، جن میں 3 ارب ڈالر کی منتقلی کا دعویٰ بھی شامل تھا۔ بیان میں کہا گیا کہ یہ الزامات مکمل طور پر غلط اور بے بنیاد ہیں، اور نہ تو کوئی منجمد ایرانی فنڈ جاری کیا گیا ہے، نہ منتقل کیا گیا ہے اور نہ ہی متحدہ عرب امارات کی جانب سے اس عمل میں کوئی سہولت فراہم کی گئی ہے۔اس سے قبل جب روئٹرز نے فنڈز کی منتقلی سے متعلق تبصرہ طلب کیا تو ایک اماراتی عہدیدار نے کہا کہ ان کا ملک خطے میں کشیدگی کم کرنے اور امن کو فروغ دینے کی کوشش کر رہا ہے۔ عہدے دار کے مطابق متحدہ عرب امارات کی خارجہ پالیسی کشیدگی میں کمی، خطے میں استحکام اور پائیدار امن کے فروغ پر مبنی ہے۔