ابوظبی (10 جون 2026): اسرائیلی میڈیا کان نیوز نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے 3 ارب امریکی ڈالر مالیت کے اثاثے ابوظبی سے تہران جانے والی ایک پرواز کے ذریعے منتقل کیے گئے ہیں۔ایرانی وانا نیوز ایجنسی کے مطابق کئی غیر ملکی اور اسرائیلی ذرائع ابلاغ نے دعویٰ کیا ہے کہ حالیہ دنوں میں ابوظبی سے تہران جانے والی ایک پرواز کے ذریعے ایران کے 3 ارب ڈالر مالیت کے اثاثے تہران منتقل کیے گئے ہیں۔ رپورٹس کے مطابق یہ اقدام خطے میں مزید کشیدگی کو روکنے کے لیے جاری سفارتی کوششوں کا حصہ تھا۔اسرائیلی نشریاتی ادارے Kan کی ایک رپورٹ کے مطابق یہ اثاثے ابوظبی سے تہران جانے والی ایک پرواز کے ذریعے منتقل کیے گئے۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس کے بدلے ایران سے کہا گیا کہ وہ اسرائیل کے خلاف اپنے حملے روک دے۔ کان نے مزید دعویٰ کیا کہ اس منتقلی کے ساتھ ایک پیغام بھی بھیجا گیا، جو مبینہ طور پر امریکا کی جانب سے پہنچایا گیا تھا، جس میں یقین دہانی کرائی گئی کہ اسرائیل لبنان میں اپنی فوجی کارروائیاں معطل کر دے گا۔علی خامنہ ای کی نماز جنازہ، سفارتخانوں سے ویزے کب جاری ہوں گے؟رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ پیغامات کے اس تبادلے میں ایک قطری وفد نے ثالثی کا کردار ادا کیا اور اثاثے لے جانے والا طیارہ کامیابی سے تہران پہنچا۔ کچھ مغربی ذرائع نے یہ بھی اشارہ دیا ہے کہ خلیج فارس کے کئی ممالک تہران کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے اور اعتماد بحال کرنے کے خواہاں ہیں۔ اسی تناظر میں رپورٹس میں قیاس آرائی کی گئی ہے کہ یو اے ای ممکنہ طور پر ایران کے ساتھ تعلقات مضبوط بنانے کے لیے بعض رعایتیں دے رہا ہے۔تاہم ایران، متحدہ عرب امارات، امریکا یا قطر کی کسی سرکاری اتھارٹی نے ان دعوؤں کی تصدیق نہیں کی ہے، اور یہ رپورٹس تاحال غیر مصدقہ میڈیا دعوؤں کی حیثیت رکھتی ہیں۔ جب کہ ایرانی نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے ایکس پر لکھا کہ منجمد اثاثے خطے کے ممالک کو منتقل کیے جانے کے دعوے بے بنیاد ہیں، ایسی رپورٹس مخلاف پروپیگنڈا مہم کا حصہ ہیں۔