نیویارک (10 جون 2026): امریکی صحافی ڈیوڈ رھوڈ کو اغوا کر کے یرغمال بنانے والے طالبان رہنما حاجی نجیب اللہ کو 42 سال قید کی سزا سنا دی گئی۔نیویارک ٹائمز کے مطابق کمانڈر حاجی نجیب اللہ نے گزشتہ سال اپنے اعترافِ جرم میں کہا تھا کہ اس نے طالبان کے ان ارکان کی مدد کی تھی جو امریکی فوجیوں کو قتل کرنے کا ارادہ رکھتے تھے، اور 2008 میں اس نے صحافی ڈیوڈ رھوڈ، جو اس وقت نیویارک ٹائمز کے رپورٹر تھے، کے علاوہ ایک افغان صحافی اور ان کے ڈرائیور کے اغوا میں بھی مدد کی تھی۔منگل کے روز مین ہیٹن کی وفاقی ضلعی عدالت کی جج کیتھرین پولک فیلا نے سزا سناتے ہوئے کہا ’’مسٹر نجیب اللہ کے اقدامات میں دہشت گردانہ کارروائیوں کی حمایت اور ان کو ممکن بنانا شامل تھا۔‘‘ انھوں نے مزید کہا کہ ملزم نے یرغمال بنانے کی کارروائی ’’بے حسی پر مبنی سفاکیت‘‘ اور ’’نفسیاتی اذیت‘‘ کے ساتھ انجام دی۔استغاثہ نے جج فیلا سے عمر قید کی سزا کا مطالبہ کیا تھا اور عدالت کو لکھا تھا کہ ’’شہریوں کو یرغمال بنائے جانے سے زیادہ شیطانی اور اخلاقی طور پر غلط طرزِ عمل کا تصور کرنا مشکل ہے۔‘‘ استغاثہ نے مزید کہا کہ نجیب اللہ 2008 میں اپنے زیرِ کمان جنگجوؤں کے ایک حملے کا بھی ذمہ دار تھا جس میں 3 امریکی فوجی اہلکار اور ایک افغان مترجم ہلاک ہوئے تھے۔ مقتولین میں سے بعض کی لاشوں کو مسخ یا نذرِ آتش بھی کیا گیا تھا۔3 ارب ڈالر ایرانی اثاثے ابوظبی سے تہران منتقل، اسرائیلی میڈیا کا دعویٰ، ایرانی نائب وزیر خارجہ کی تردیداستغاثہ نے لکھا کہ ملزم ایک ایسے پرتشدد باغی گروہ کی قیادت کر رہا تھا جو امریکیوں اور ان کے اتحادیوں کو قتل کرنے پر تُلا ہوا تھا۔ جب کہ نجیب اللہ کے وکلا، جنھوں نے 18 سال قید کی سزا کی درخواست کی تھی، نے کہا کہ اگرچہ ان کا مؤکل اس بات سے انکار نہیں کرتا کہ طالبان کی اس کی حمایت 2008 کی ہلاکتوں کا باعث بنی، لیکن اس کا مؤقف ہے کہ وہ اس حملے میں شریک نہیں تھا، نہ اس نے اس کی ہدایت دی تھی، اور نہ ہی وہ اغوا کی کارروائی کے ’’اہم نگرانوں‘‘ میں شامل تھا۔دفاعی وکلا نے مزید کہا کہ نجیب اللہ کی ندامت، طالبان میں اس کا نسبتاً نچلا عہدہ اور بطور کمانڈر اس کی محدود مدت اس بات کا ثبوت ہیں کہ وہ ’’ایسا بے توبہ دہشت گرد نہیں جسے ایسی سزا دی جائے کہ وہ صرف تابوت میں ہی جیل سے باہر نکلے۔‘‘منگل کو سزا سنائے جانے سے قبل نجیب اللہ نے عدالت سے خطاب کرتے ہوئے ڈیوڈ رھوڈ سے معافی مانگی۔ اس نے کہا ’’ان کے ساتھ جو کچھ ہوا وہ خوف ناک تھا اور اس میں اپنے کردار پر مجھے گہرا افسوس ہے۔‘‘ ڈیوڈ رھوڈ نے بھی عدالت میں گفتگو کی۔ انھوں نے 2008 کے حملے میں مارے جانے والے امریکی فوجیوں اور افغان مترجم کے نام لیے، ان کے اہلِ خانہ اور دوستوں کے درد، نقصان اور غم کا حوالہ دیا، اور یرغمال بنانے کو ایک ظالمانہ اور بزدلانہ جرم قرار دیا۔واضح رہے کہ ڈیوڈ رھوڈ 2008 میں افغانستان میں ایک کتاب کے لیے تحقیق کے دوران نجیب اللہ سے ملاقات کی کوشش کر رہے تھے جب انھیں افغان صحافی طاہر لودین اور ڈرائیور اسداللہ منگل سمیت اغوا کر لیا گیا۔ بعد ازاں انھیں پاکستان کے اس علاقے میں منتقل کر دیا گیا جو طالبان کے کنٹرول میں تھا۔ وہ دو ساتھیوں سمیت 7 ماہ تک حاجی نجیب اللہ کی قید میں رہے۔سات ماہ قید میں رہنے کے بعد رھوڈ اور طاہر لودین ایک طالبان کمپاؤنڈ سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔ انھوں نے ایک رسی کے ٹکڑے کی مدد سے رات کے وقت دیوار پھلانگی اور پیدل چل کر پاکستانی فوج کے ایک اڈے تک پہنچ گئے۔ استغاثہ کے مطابق اسد اللہ منگل تقریباً پانچ ہفتے بعد ایک جھڑپ کے دوران فرار ہو گئے تھے۔