کانگریس کے ایک وفد نے راجیہ سبھا انتخاب کے لیے میناکشی نٹراجن کا پرچۂ نامزدگی مسترد کیے جانے سے متعلق معاملہ میں آج الیکشن کمیشن سے ملاقات کی۔ کانگریس لیڈران نے اس معاملہ میں الیکشن کمیشن سے فوری مداخلت کا مطالبہ کیا ہے۔ پارٹی کے ایک اعلیٰ سطحی وفد نے چیف الیکشن کمشنر اور دیگر الیکشن کمشنرز سے ملاقات کر ریٹرننگ افسر (آر او) کے فیصلے کو غیر قانونی، جانبدارانہ اور جمہوری اصولوں کے منافی قرار دیا۔The delegation of the Indian National Congress, consisting of Abhishek Manu Singhvi ji, Vivek Tankha ji, Randeep Singh Surjewala ji, Jairam Ramesh ji, Deepa Dasmunshi ji, Bhupesh Baghel ji, Meenakshi Natarajan ji, and myself, met the Chief Election Commissioner and other… pic.twitter.com/OmeKNux3wp— Congress (@INCIndia) June 10, 2026کانگریس جنرل سکریٹری (تنظیم) کے سی وینوگوپال نے اس ملاقات کے بعد پریس بریفنگ کے دوران بتایا کہ پارٹی کے وفد میں ڈاکٹر ابھشیک منو سنگھوی، وویک تنکھا، رندیپ سنگھ سرجے والا، جے رام رمیش، دیپا داس منشی، بھوپیش بگھیل، میناکشی نٹراجن اور وہ خود شامل تھے۔ انہوں نے یہ بھی جانکاری دی کہ وفد نے الیکشن کمیشن کے سامنے اس معاملے سے متعلق تمام حقائق اور اعداد و شمار تفصیل سے پیش کیے اور نامزدگی مسترد کیے جانے کے فیصلے پر اپنی شدید تشویش کا اظہار کیا۔اس موقع پر کانگریس کے سینئر لیڈر اور ممتاز قانون داں ڈاکٹر ابھشیک منو سنگھوی نے کہا کہ پارٹی نے الیکشن کمیشن کے سامنے ایک مفصل نمائندگی پیش کی ہے اور یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ ریٹرننگ افسر کا حکم قانونی بنیادوں سے محروم اور سراسر غلط ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوامی نمائندگی قانون کی دفعہ 33 اے واضح طور پر کہتی ہے کہ کسی امیدوار کے لیے صرف انہی فوجداری مقدمات کی تفصیلات ظاہر کرنا ضروری ہے جن میں 2 سال سے زیادہ سزا کی گنجائش ہو اور جن میں عدالت کی جانب سے باقاعدہ طور پر فرد جرم عائد کی جا چکی ہو۔ ان کے مطابق فرد جرم عائد کرنا ایک عدالتی عمل ہے اور یہ صرف جج ہی انجام دیتا ہے۔We had a detailed representation before the Election Commission. We told them, and we demonstrated according to us, beyond doubt and beyond any matter of controversy, that the RO has passed a perverse order.The Election Commission's own law, the Representation of the People… pic.twitter.com/LvSKbbCGXv— Congress (@INCIndia) June 10, 2026سنگھوی نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ کسی بھی فوجداری معاملے میں سب سے پہلا مرحلہ نجی شکایت (پرائیویٹ کمپلینٹ) کا ہوتا ہے، جو بے بنیاد بھی ہو سکتی ہے۔ اس کے بعد مجسٹریٹ کی جانب سے شکایت کا نوٹس لینا ایک آزاد عدالتی عمل ہے۔ انہوں نے کہا کہ میناکشی نٹراجن کو صرف عدالت میں حاضر ہو کر یہ وضاحت دینے کا نوٹس ملا تھا کہ شکایت پر نوٹس کیوں نہ لیا جائے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ نوٹس ایسے مرحلے پر جاری ہوا تھا جب عدالت نے ابھی تک نوٹس نہیں لیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ قانون کی نظر میں نوٹس لیے بغیر کوئی فوجداری مقدمہ وجود میں نہیں آتا۔ محض کسی شخص پر الزام عائد کر دینا کافی نہیں ہوتا جب تک کہ عدالت اس پر باضابطہ طور پر نوٹس نہ لے۔ڈاکٹر سنگھوی نے کہا کہ حیرت انگیز طور پر میناکشی نٹراجن کی نامزدگی ایسے وقت مسترد کر دی گئی جب ان کے خلاف نہ تو عدالت نے نوٹس لیا تھا اور نہ ہی کوئی فوجداری مقدمہ قانونی طور پر وجود میں آیا تھا۔ ان کے مطابق جب نوٹس ہی نہیں لیا گیا تو ایسی کوئی قانونی ذمہ داری بھی نہیں بنتی تھی کہ وہ کسی مقدمے کی تفصیلات اپنے کاغذات نامزدگی میں ظاہر کرتیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ دفعہ 33 اے کے تحت قانونی عمل میں پہلے نوٹس لیا جاتا ہے، پھر تفتیش ہوتی ہے اور اس کے بعد فرد جرم یا چارج شیٹ کا مرحلہ آتا ہے۔ لیکن میناکشی نٹراجن کے معاملے میں ان مراحل میں سے کوئی بھی مکمل نہیں ہوا تھا۔हमारे प्रतिनिधिमंडल ने चुनाव आयोग के सामने विस्तृत रूप से अपने मुद्दे रखे हैं • मीनाक्षी नटराजन जी के मामले में रिटर्निंग ऑफिसर (RO) का फैसला विकृत है, कानूनी रूप से गलत है, जिसका समर्थन नहीं किया जा सकता• रिटर्निंग ऑफिसर ने जिस आधार पर मीनाक्षी नटराजन जी का नामांकन रद्द… pic.twitter.com/Hu1DdutG56— Congress (@INCIndia) June 10, 2026کانگریس لیڈر نے اس بات کی جانب بھی توجہ دلائی کہ ریٹرننگ افسر کے حکم میں خود لفظ ’سنگیان‘ (نوٹس) استعمال کیا گیا ہے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ عدالت نے ابھی تک نوٹس لیا ہی نہیں تھا۔ ان کے مطابق یہ بات اس فیصلے کی کمزور قانونی بنیاد کو ظاہر کرتی ہے۔ سنگھوی نے کہا کہ کانگریس نے الیکشن کمیشن کو یہ بھی یاد دلایا ہے کہ آئین ہند کے آرٹیکل 324 کے تحت کمیشن کو وسیع آئینی اختیارات حاصل ہیں۔ یہ اختیارات الیکشن کمیشن کو انصاف فراہم کرنے، غلطیوں کی اصلاح کرنے اور انتخابی عمل کی شفافیت برقرار رکھنے کا اختیار دیتے ہیں۔ابھشیک منو سنگھوی کا کہنا ہے کہ اگر اس طرح کے فیصلوں کو برقرار رکھا جاتا ہے تو انتخابی میدان غیر مساوی ہو جائے گا، جو جمہوریت کی روح کے خلاف ہے۔ ان کے مطابق مساوی مواقع کا خاتمہ نہ صرف جمہوری اقدار کو نقصان پہنچاتا ہے بلکہ آئین کے بنیادی ڈھانچے پر بھی ضرب لگاتا ہے۔ کانگریس نے الیکشن کمیشن سے مطالبہ کیا ہے کہ چونکہ نامزدگی واپس لینے کا مرحلہ ابھی جاری ہے اور فیصلہ کرنے کے لیے کافی وقت موجود ہے، اس لیے کمیشن فوری مداخلت کرتے ہوئے ریٹرننگ افسر کے حکم کو کالعدم قرار دے۔ پارٹی کا مؤقف ہے کہ یہ فیصلہ واضح طور پر غیر قانونی، منمانی اور قانونی جواز سے خالی ہے، جسے فوری طور پر منسوخ کیا جانا چاہیے۔