ایپسٹین اسکینڈل کی متاثرہ خواتین نئی مشکل میں پھنس گئیں

Wait 5 sec.

واشنگٹن : امریکہ کے بدنامِ زمانہ جیفری ایپسٹین اسکینڈل میں جنسی استحصال کا نشانہ بننے والی خواتین کو آج بھی مختلف پلیٹ فارمز پر ہراسانی اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔آن لائن ہراسانی اور دھمکیاںایک رپورٹ کے مطابق متاثرہ خواتین کو سوشل میڈیا پر نامعلوم افراد کی جانب سے مسلسل دھمکیوں اور تضحیک آمیز رویوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جس سے ان کی ذہنی صحت بری طرح متاثر ہورہی ہے۔جن خواتین نے جنسی استحصال سے بچ نکلنے کے بعد انصاف کے لیے آواز اٹھائی، وہ اب ایک نئی آزمائش سے گزر رہی ہیں۔متاثرہ خواتین کے مطابق انہیں دھمکیوں، ہراسانی اور خوفزدہ کرنے کی مسلسل کارروائیوں کا سامنا ہے، جس میں سوشل میڈیا حملوں سے لے کر گھروں کی نگرانی تک شامل ہے۔امریکی محکمہ انصاف کی سنگین غلطیبرطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی 8 جون 2026 کو شائع ہونے والی تحقیقاتی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ امریکی محکمہ انصاف کی جانب سے ایپسٹین سے متعلق لاکھوں دستاویزات جاری کیے جانے کے بعد متعدد متاثرہ خواتین کی شناخت غلطی سے ظاہر ہوگئی، جس کے بعد ان کے خلاف نفرت انگیز مہم میں شدت آگئی۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکی محکمہ انصاف نے اعتراف کیا ہے کہ دستاویزات جاری کرتے وقت ریڈیکشن میں سنگین غلطیاں ہوئیں، جس کے نتیجے میں ہزاروں مقامات پر متاثرین کے نام، پتے، فون نمبر، تاریخِ پیدائش اور تصاویر منظرِ عام پر آگئیں، متاثرہ خواتین کی وکیل برٹنی ہینڈرسن کے مطابق کم از کم 177خواتین کی معلومات افشا ہوئیں۔امریکی حکام کا کہنا ہے کہ شکایات موصول ہونے کے بعد متاثرہ معلومات ہٹانے کے لیے دن رات کام کیا گیا، اسی معاملے پر مارچ 2026 میں امریکی محکمہ انصاف اور گوگل کے خلاف ایک مقدمہ بھی دائر کیا گیا، جس میں پرائیویسی قوانین کی خلاف ورزی اور تقریباً سو متاثرین کی شناخت ظاہر کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔رپورٹ کے مطابق رائٹرز نے 23 متاثرہ خواتین سے گفتگو کی۔ جس میں عدالتی و پولیس ریکارڈ کا جائزہ اور ہزاروں آن لائن پوسٹس پر تجزیہ کیا گیا۔گھروں کے باہر مشکوک افراد کی نقل و حرکتتحقیقات میں یہ بات سامنے آئی کہ کئی خواتین شدید خوف اور ذہنی دباؤ میں زندگی گزار رہی ہیں، بعض کے گھروں کے باہر مشکوک گاڑیاں دیکھی گئیں جبکہ کئی خواتین کو فون اور سوشل میڈیا پر جان سے مارنے کی دھمکیاں تک موصول ہوئیں۔متاثرہ خواتین کے ہوشربا انکشافات14برس کی عمر میں ایپسٹین کے مبینہ جنسی استحصال کا شکار بننے والی مرینا لاسیردا نے رائٹرز کو بتایا کہ جب انہوں نے مزید فائلیں جاری کرنے کے مطالبے کے لیے ایک پریس کانفرنس میں شرکت کی تو انہیں فوری طور پر آن  لائن دھمکیوں کا سامنا کرنا پڑا۔مرینا لاسیردا کے مطابق ان کی 12 سالہ بیٹی کو بھی اسکول میں طعنے دیے گئے، انہوں نے بتایا کہ وہ اب ایک محفوظ رہائشی علاقے میں رہتی ہیں اور اپنی جان بچانے اور خوف کے سبب اپنے پاس اسلحہ رکھتی ہیں۔ایک اور متاثرہ خاتون ڈینیئل بینسکی جو 17 برس کی عمر میں مبینہ طور پر ایپسٹین کا شکار بنیں، نے بتایا کہ ان کی ذاتی معلومات منظرِ عام پر آنے کے بعد انہیں جان سے مارنے کی دھمکیاں موصول ہوئیں، ایک شخص نے فیس بک پر انہیں ہراساں کرتے ہوئے اسلحے کی تصاویر بھیجیں۔سابق ماڈل آڈرا لن فسانو نے بھی دعویٰ کیا کہ ان کی ذاتی معلومات سامنے آنے کے بعد ان کے گھر کے اطراف مشکوک سرگرمیاں دیکھی گئیں جبکہ ایک خاتون ماریا فارمر جنہوں نے 1996 میں ہی ایپسٹین اور گھسلین میکسویل کے خلاف حکام کو آگاہ کیا تھا، برسوں سے دھمکیوں، ہیکنگ اور آن لائن ہراسانی کا سامنا کر رہی ہیں۔خواتین نے اسلحہ رکھ لیارپورٹ کے مطابق کم از کم 10 متاثرہ خواتین اب ذاتی تحفظ کے لیے اسلحہ رکھتی ہیں یا سیکیورٹی خدمات حاصل کرچکی ہیں، کئی خواتین تنہا باہر جانے سے گریز کرتی ہیں جبکہ متعدد نے پولیس کو دھمکیوں کی شکایات بھی درج کرائیں، تاہم گمنام افراد کی شناخت نہ ہونے کے باعث پولیس مؤثر کارروائیاں نہ کرسکی۔جیفری ایپسٹین کی پلی بارگینیاد رہے کہ جیفری ایپسٹین 2008 میں کم عمر لڑکیوں کے جنسی استحصال کے مقدمے میں پلی بارگین کرچکا تھا، جبکہ 2019 میں گرفتاری کے بعد جیل میں اس کی موت واقع ہوگئی تھی، اس کے قریبی ساتھی گھسلین میکسویل کو 20 سال قید کی سزا سنائی جاچکی ہے۔رپورٹ کے مطابق انصاف کی تلاش میں آواز اٹھانے والی خواتین کے لیے سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ ان کی ہمت اور جدوجہد نے انہیں مزید خطرات سے دوچار کردیا ہے۔ماہرین کے مطابق حساس معلومات کے تحفظ میں حکومتی ناکامی نے متاثرین کی مشکلات میں کئی گنا اضافہ کردیا ہے۔