ٹی ایم سی کے 20 باغی اراکین پارلیمنٹ نے لوک سبھا اسپیکر کو لکھا خط، این ڈی اے کی حمایت کا اعلان

Wait 5 sec.

کولکاتا/نئی دہلی: ترنمول کانگریس میں جاری سیاسی ہلچل کے درمیان پارٹی کے 20 باغی اراکین پارلیمنٹ نے لوک سبھا اسپیکر اوم برلا کو خط لکھ کر پارلیمنٹ میں الگ گروپ کی منظوری دینے اور علیحدہ نشستوں کا انتظام کرنے کی درخواست کی ہے۔ باغی اراکین نے ساتھ ہی بھارتیہ جنتا پارٹی کی قیادت والے قومی جمہوری اتحاد (این ڈی اے) کی حمایت کا اعلان بھی کر دیا ہے، جسے مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ اور ترنمول سپریمو ممتا بنرجی کے لیے بڑا سیاسی جھٹکا قرار دیا جا رہا ہے۔ٹی ایم سی کو بچانے کے لیے ممتا بنرجی نے کی تنظیمی ’سرجیکل اسٹرائیک‘، بھتیجے ابھیشیک کے قریبی لیڈران کو دیا دھچکااطلاعات کے مطابق باغی گروپ نے اپنے خط میں کاکولی گھوش دستیدار کو گروپ کا رہنما تسلیم کرنے کی بھی درخواست کی ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ خط پر دستخط کرنے والوں میں شتابدی رائے، پرسون بنرجی، جگدیش بسونیا، پارتھ بھومک، اروپ چکروتی، اسیت مل، شرمیلا سرکار، بپی ہلدر اور دیگر اراکین پارلیمنٹ شامل ہیں۔یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ترنمول کانگریس کی اعلیٰ قیادت نئی دہلی میں انڈیا بلاک کی میٹنگ میں شریک تھی۔ اسی دوران ناراض اراکین پارلیمنٹ نے مرکزی وزیر بھوپیندر یادو کی رہائش گاہ پر ملاقات کی تھی۔ اس میٹنگ میں راجیہ سبھا کے سابق رکن سکھیندو شیکھر رائے بھی موجود تھے، جنہوں نے بعد میں راجیہ سبھا کی رکنیت اور پارٹی دونوں سے استعفیٰ دے دیا۔ممتا بنرجی کو لگا ایک اور دھچکا، ریاستی اقلیتی سیل کے سکریٹری اجمل صدیقی نے ٹی ایم سی کو کہا الوداعمشکل میں ممتا! ترنمول کا باغی گروپ خفیہ میٹنگ کے بعد مرکزی وزیر بھوپیندر یادو کے گھر پہنچا، سویندو ادھیکاری بھی موجودکاکولی گھوش دستیدار نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ باغی اراکین نے موجودہ سیاسی حالات اور مغربی بنگال کے انتخابی نتائج کو مدنظر رکھتے ہوئے این ڈی اے کی حمایت کا فیصلہ کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ گروپ کے اراکین کو لگتا ہے کہ ان کا سیاسی مستقبل این ڈی اے کے ساتھ زیادہ محفوظ ہوگا۔اس سے قبل بھی ترنمول کانگریس کے اندر اختلافات کی خبریں سامنے آتی رہی ہیں، تاہم پارلیمانی سطح پر اتنی بڑی تعداد میں اراکین کا بیک وقت الگ راستہ اختیار کرنا پارٹی قیادت کے لیے ایک غیر معمولی چیلنج سمجھا جا رہا ہے۔سیاسی مبصرین کا ماننا ہے کہ اگر باغی گروپ کو باضابطہ منظوری مل جاتی ہے تو اس کے اثرات نہ صرف پارلیمنٹ بلکہ مغربی بنگال کی سیاست پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔دوسری جانب ترنمول کانگریس کی طرف سے اس تازہ پیش رفت پر باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا ہے، تاہم سیاسی حلقوں میں اس معاملے پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔ باغی اراکین کی جانب سے اسپیکر کو خط لکھے جانے اور این ڈی اے کی حمایت کے اعلان کے بعد اب نظریں لوک سبھا اسپیکر کے فیصلے اور ترنمول قیادت کے آئندہ لائحۂ عمل پر مرکوز ہیں۔