دہلی میں پانی کی بڑھتی ہوئی قلت کو لے کر کانگریس نے بی جے پی کی ریکھا گپتا حکومت کے خلاف محاذ کھول دیا ہے۔ دہلی کانگریس کے صدر دیویندر یادو کی قیادت میں ریاست بھر کے بلاکس میں میں ’مٹکا پھوڑ‘ احتجاج کیے گئے۔ کانگریس نے الزام عائد کیا کہ دہلی جل بورڈ اور بی جے حکومت آبی بحران سے نمٹنے میں ناکام ثابت ہو رہی ہے، جس کی وجہ سے عام لوگوں اور خاص کر غریب طبقے کو کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔आज दिल्ली में बढ़ते जल संकट और भाजपा सरकार की विफलताओं के खिलाफ आयोजित #मटका_फोड़ विरोध प्रदर्शन में शामिल होकर आम जनता के हितों की आवाज़ बुलंद की।इस दौरान करोल बाग जिला कांग्रेस अध्यक्ष महेंद्र भास्कर जी, जगजीवन शर्मा जी (उपाध्यक्ष), सतेंद्र शर्मा जी (महासचिव), राहुल धनक जी… pic.twitter.com/3DVIoIqJwK— Devender Yadav (@devendrayadvinc) June 7, 2026دہلی کانگریس صدر نے خود براڑی سمیت کئی علاقوں میں منعقد کردہ ’مٹکا پھوڑ‘ مظاہروں میں حصہ لیا۔ کراول نگر ضلع کے براڑی واقع دہلی جل بورڈ دفتر کے باہر ہوئے احتجاج میں بڑی تعداد میں کانگریس کارکنان اور مقامی لوگ شامل ہوئے۔ احتجاج کے دوران حکومت کے خلاف جم کر نعرے بازی کی گئی اور پانی کے مسائل کا فوری حل نکالنے کا مطالبہ کیا گیا۔دیویندر یادو نے بی جے پی حکومت کو ہدف تنقید بناتے ہوئے کہا کہ ریکھا گپتا حکومت غریبوں کے مفادات کو نظر انداز کر رہی ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ غریبوں کو راجدھانی سے باہر کرنے کی سوچی سمجھی حکمت عملی کے تحت ان کے گھر توڑے جا رہے ہیں۔ شدید گرمی میں انہیں پینے کے پانی کے لیے ترسایا جا رہا ہے، بجلی کٹوتی اور گندگی جیسے مسائل کا سامنا کرنے کے لیے مجبور کیا جا رہا ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ایسے حالات غریبوں کے وجود کے لیے خطرہ پیدا کر رہے ہیں۔کانگریس لیڈر دیویندر یادو نے دعویٰ کیا کہ کانگریس حکومت کے دوران غریبوں کو باعزت زندگی دینے کے لیے کئی اہم قدم اٹھائے گئے تھے۔ کانگریس نے جھگی-جھونپڑی میں رہنے والے لوگوں کے لیے ’ان-سیٹو فلیٹ‘ منصوبہ شروع کیا تھا اور غیر مجاز کالونیوں کو ریگولرائز کیا تھا۔ ان کے مطابق کانگریس کے 15 سالہ دور اقتدار میں دہلی والوں کو پانی کے ایسے سنگین مسائل کا سامنا نہیں کرنا پڑا تھا۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ کانگریس حکومت کے ذریعہ بنائے گئے فلیٹس کو غریبوں کو الاٹ کرنے کے بجائے گزشتہ عام آدمی پارٹی حکومت اور موجودہ بی جے پی حکومت نے انہیں نظر انداز کیا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ دونوں حکومتوں نے غریبوں کی مجبوریوں پر سیاست کی اور ان کی بازآبادکاری کے مسئلے کو سنجیدگی سے نہیں لیا۔کانگریس لیڈر نے کہا کہ پارٹی کے کارکنان پانی کی کمی کے مسئلے پر مسلسل آواز اٹھاتے رہیں گے اور حکومت پر دباؤ بناتے رہیں گے۔ ساتھ ہی انہوں نے مطالبہ کیا کہ جن علاقوں میں غریب آبادی رہتی ہے، وہاں فوری طور پر وافر مقدار میں پینے کے پانی کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔ دیویندر یادو نے الزام عائد کیا کہ کئی علاقوں میں جان بوجھ کر دہلی جل بورڈ کی پائپ لائنوں سے پانی نہیں پہنچایا جا رہا ہے۔دیویندر یادو نے یہ بھی کہا کہ دہلی کی بی جے پی حکومت پڑوسی بی جے پی کی حکومت والی ریاستوں سے راجدھانی کی ضرورت کے مطابق اضافی پانی دستیاب کرانے میں ناکام رہی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ نام نہاد ’ٹرپل انجن‘ حکومت ہونے کے باوجود دہلی کے لوگوں کو بنیادی سہولیات کے لیے جدوجہد کرنی پڑ رہی ہے، جو حکومت کے طریقۂ کار پر سوال کھڑے کرتا ہے۔آبی بحران کی زد میں دہلی: 6 فٹ نیچے پہنچی جمنا کی آبی سطح، واٹر پلانٹس سے سپلائی 25 فیصد تک گھٹیقابل ذکر ہے کہ ’مٹکا پھوڑ‘ احتجاج میں ضلع صدر منگیش تیاگی، نریندر سونی، نارائن دت، پردیپ رانا، شیام سسودیا، راجن پانڈے، کھیم چند سینی، ونے تیاگی، انل بنسیوال، امت ڈیڈا، ونود کمار اور مکیش پال سمیت کئی کانگریس لیڈران اور کارکنان موجود رہے۔