انڈیا اتحاد کی ایک انتہائی اہم میٹنگ آج دہلی میں منعقد ہوئی، جس میں کانگریس سمیت تقریباً 2 درجن پارٹیوں کے نمائندے موجود رہے۔ کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے اپنے افتتاحی خطاب میں مرکزی حکومت کو مختلف محاذوں پر سخت تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ ملک اس وقت سیاسی، اقتصادی، سماجی اور خارجہ پالیسی کے متعدد چیلنجوں سے دوچار ہے، جن کا سبب مودی حکومت کی پالیسیوں اور طرز حکمرانی کو قرار دیا جا سکتا ہے۔Leaders of the INDIA alliance gathered for a crucial meeting at the Constitution Club of India.Congress President Shri @kharge, CPP Chairperson Smt. Sonia Gandhi ji, LoP Shri @RahulGandhi, and other alliance leaders attended the meeting.New Delhi pic.twitter.com/PVBNEJtx1T— Congress (@INCIndia) June 8, 2026میٹنگ کے آغاز میں انڈیا بلاک کے تمام لیڈران کا خیرمقدم کرتے ہوئے کھڑگے نے کہا کہ انڈیا بلاک تقریباً 3 سال قبل وجود میں آیا تھا اور اس نے اپوزیشن پارٹیوں کو ایک مشترکہ پلیٹ فارم فراہم کیا ہے۔ موجودہ حالات میں اپوزیشن پارٹیوں کے درمیان اتحاد اور یکجہتی پہلے سے زیادہ ضروری ہو گئی ہے۔ کانگریس صدر نے 17 اپریل 2026 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ لوک سبھا میں اپوزیشن پارٹیوں نے غیر معمولی اتحاد کا مظاہرہ کیا تھا اور مشترکہ حکمت عملی کے ذریعہ مودی حکومت کے حد بندی (ڈی لمیٹیشن) سے متعلق متنازعہ بلوں کو شکست دی تھی۔ ان کے مطابق یہ اپوزیشن کی اجتماعی طاقت اور جمہوری عزم کا مظہر تھا، جسے مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔کھڑگے نے الزام لگایا کہ ووٹر لسٹ کی خصوصی نظرثانی (ایس آئی آر) کے عمل کے نتیجے میں ملک کے کروڑوں شہریوں کے حق رائے دہی کو خطرات لاحق ہو گئے ہیں اور بڑی تعداد میں لوگوں کو ووٹنگ کے بنیادی حق سے محروم کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ صورتحال جمہوری اقدار کے لیے تشویش ناک ہے۔ آئین پر مسلسل حملوں کا الزام عائد کرتے ہوئے کانگریس لیڈر نے کہا کہ ملک کے آئینی اداروں کو کمزور کیا جا رہا ہے اور جمہوری روایات کو نقصان پہنچایا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ تفتیشی ایجنسیوں کا استعمال سیاسی مخالفین کو ہراساں کرنے اور دباؤ میں لانے کے لیے کیا جا رہا ہے، جس سے جمہوری نظام کی غیر جانبداری پر سوالات کھڑے ہوتے ہیں۔INDIA गठबंधन की बैठक में कांग्रेस अध्यक्ष श्री @kharge के शुरुआती वक्तव्य का अंश — मैं INDIA गठबंधन के नेताओं की इस बैठक में आप सभी का स्वागत करता हूं। यह समूह लगभग 3 साल पहले अस्तित्व में आया था। मैं ज्यादा नहीं बोलना चाहता, क्योंकि हमारे सामने मौजूद मुद्दे आप सभी अच्छी तरह… pic.twitter.com/BpOHIWIkoG— Congress (@INCIndia) June 8, 2026کانگریس صدر نے یہ بھی کہا کہ غیر بی جے پی ریاستی حکومتوں کے ساتھ امتیازی سلوک کیا جا رہا ہے اور وفاقی ڈھانچے کی روح کو مجروح کیا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق ریاستوں کے حقوق اور اختیارات کا احترام جمہوری نظام کا بنیادی تقاضا ہے۔ معاشی صورتحال پر بات کرتے ہوئے کھڑگے نے کہا کہ ضروری اشیاء کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، جس کے باعث عام آدمی شدید مشکلات کا سامنا کر رہا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ملک کا مجموعی اقتصادی ماحول منفی سمت میں جا رہا ہے اور سرمایہ کاری کی رفتار مطلوبہ سطح تک نہیں پہنچ پا رہی، جس کی وجہ سے روزگار کے نئے مواقع پیدا نہیں ہو رہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ مختلف شعبوں میں نجی اجارہ داریوں کا دائرہ وسیع ہوتا جا رہا ہے، جبکہ ملک کے چھوٹے، درمیانے اور خرد درجے کے کاروبار (ایم ایس ایم ای) سنگین بحران سے دوچار ہیں۔ ان کے مطابق یہ شعبہ ملک کی معیشت اور روزگار کا ایک اہم ستون ہے، لیکن حکومتی پالیسیوں کی وجہ سے اس کی مشکلات میں اضافہ ہو رہا ہے۔نوجوانوں کے مسائل کا ذکر کرتے ہوئے کھڑگے نے امتحانات کے نظام میں بے ضابطگی پر شدید تشویش ظاہر کی۔ انہوں نے کہا کہ لاکھوں نوجوانوں کے مستقبل اور ان کی امیدوں کے ساتھ ناانصافی ہو رہی ہے اور بار بار امتحانات میں بے ضابطگیوں کے واقعات سامنے آ رہے ہیں۔ انہوں نے سماج کے کمزور طبقات پر ہونے والے مظالم کا بھی ذکر کیا اور دعویٰ کیا کہ خاص طور پر بی جے پی کے زیر اقتدار ریاستوں میں محروم اور کمزور طبقات کو مختلف مسائل اور ناانصافیوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔خارجہ پالیسی کے موضوع پر کانگریس صدر نے کہا کہ ہندوستان کی روایتی سفارتی پالیسی اور بین الاقوامی سطح پر اس کے تاریخی مؤقف کو نقصان پہنچا ہے۔ ان کے مطابق ملک نے طویل عرصے تک جن اصولوں اور اقدار کی حمایت کی، موجودہ حکومت انہیں برقرار رکھنے میں ناکام رہی ہے، جس کے اثرات عالمی سطح پر ہندوستان کی ساکھ پر بھی پڑ رہے ہیں۔