تمل ناڈو: انّاملائی نے بی جے پی سے علیحدگی کے بعد نئی پارٹی بنانے کا کیا اعلان

Wait 5 sec.

تمل ناڈو بی جے پی کے سب سے زیادہ زیر بحث رہنے والے لیڈران میں سے ایک کے انّاملائی نے پارٹی کی بنیادی رکنیت سے جب استعفیٰ دیا تو ریاست میں بی جے پی کی جڑیں کمزور ہوتی ہوئی نظر آئیں، اور اب تو اناملائی نے ایک نیا اعلان کر دیا ہے۔ انھوں نے اپنی ایک نئی پارٹی بنانے کا فیصلہ کیا ہے، جس سے ریاست میں سیاسی ہلچل بڑھ گئی ہے۔قابل ذکر ہے کہ کئی دنوں سے جاری قیاس آرائیوں کے بعد بی جے پی کی اعلیٰ قیادت نے جمعہ کو اناملائی کا استعفیٰ قبول کر لیا۔ اس استعفیٰ پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے تمل ناڈو بی جے پی کے صدر نینار ناگیندرن نے کہا کہ اناملائی کے جانے سے پارٹی کو کوئی نقصان نہیں ہوگا۔ پارٹی کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ بی جے پی کے قومی صدر نتن نوین نے تمل ناڈو کے سابق ریاستی صدر اناملائی کا استعفیٰ قبول کر لیا ہے۔بی جے پی کی اعلیٰ قیادت نے یہ فیصلہ ایسے وقت میں لیا جب انّاملائی سوشل میڈیا پر عوام کے ساتھ کھلی بات چیت کرنے والے تھے۔ اناملائی کے استعفے پر اپنا رد عمل ظاہر کرتے ہوئے نینار ناگیندرن نے کہا کہ ’’بی جے پی کو اس سے کوئی نقصان نہیں پہنچے گا۔ بی جے پی دنیا کی ایک بڑی پارٹی ہے۔‘‘ ان کے اس بیان کو پارٹی کے آفیشیل موقف کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ دوسری جانب آندھرا پردیش بی جے پی کے صدر پی وی این مادھو نے امید ظاہر کی کہ اناملائی مستقبل میں دوبارہ پارٹی میں واپس آ سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تمل ناڈو میں پارٹی کو مضبوط بنانے میں اناملائی کا اہم کردار رہا ہے اور ان کی واپسی کی امید برقرار ہے۔واضح رہے کہ اپنے استعفی نامہ میں اناملائی نے لکھا تھا کہ قومی پارٹیاں اکثر تمل ناڈو کے عوام کی زبان اور جذبات کو سمجھنے میں ناکام رہتی ہیں۔ گزشتہ چند برسوں میں انہوں نے اس تاثر کو بدلنے کی کوشش کی اور اس میں کافی حد تک کامیابی بھی حاصل کی۔ اناملائی نے یہ بھی کہا کہ گزشتہ 18 ماہ کے دوران انہوں نے پارٹی کی اعلیٰ قیادت کے سامنے اپنے اختلافات رکھے، لیکن تمل ناڈو کے بارے میں ان کی سوچ اور پارٹی قیادت کی سوچ میں ہم آہنگی پیدا نہیں ہو سکی۔بتایا جاتا ہے کہ بی جے پی اور ایڈپڈی کے پلانی سوامی کی قیادت والی اے آئی اے ڈی ایم کے میں 2026 کے اسمبلی انتخابات سے قبل اتحاد کے بعد اختلافات بڑھ گئے تھے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اناملائی چاہتے تھے کہ بی جے پی تنہا انتخابات لڑ کر اپنا عوامی بنیاد مضبوط کرے، جبکہ مرکزی قیادت اتحاد کے حق میں تھی۔واضح رہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی کے حامی سمجھے جانے والے اناملائی نے 2020 میں سول سروس چھوڑ کر بی جے پی میں شمولیت اختیار کی تھی۔ کچھ ہی عرصہ میں انہیں ریاستی نائب صدر بنایا گیا اور 2021 میں وہ تمل ناڈو بی جے پی کے صدر بن گئے۔ تاہم اب تک انہیں کوئی انتخابی کامیابی حاصل نہیں ہوئی۔ انہوں نے 2021 کے اسمبلی انتخاب اور 2024 کے لوک سبھا انتخاب میں قسمت آزمائی کی تھی، لیکن انھیں مایوسی کا سامنا کرنا پڑا۔