ایران پالیسی پر صدر ٹرمپ اور نیتن یاہو کے اختلافات کھل کر سامنے آ گئے، ایکسیوس

Wait 5 sec.

واشنگٹن (09 جون 2026): ایران پالیسی پر صدر ٹرمپ اور نیتن یاہو کے اختلافات کھل کر سامنے آ گئے ہیں، امریکی نیوز ویب سائٹ ایکسیوس نے رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ صدر ٹرمپ ڈیل کرنا چاہتے ہیں لیکن نیتن یاہو جنگ کے خواہاں ہیں۔رپورٹ کے مطابق نیتن یاہو کی سیاسی بقا جنگ سے وابستہ ہے جب کہ ٹرمپ کی سیاسی کامیابی جنگ کے خاتمے میں ہے، رپورٹ میں بتایا گیا کہ حالیہ پیش رفت نے واشنگٹن اور تل ابیب کے درمیان بڑھتے ہوئے سیاسی اور اسٹریٹجک اختلافات کو مزید نمایاں کر دیا ہے۔رپورٹ کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں میں اسرائیل اور ایران کے درمیان کشیدگی ایک بار پھر مکمل جنگ کے قریب پہنچ گئی تھی، جس نے امریکا کے دوبارہ مشرقِ وسطیٰ کے بڑے فوجی تنازع میں الجھنے کے خدشات کو بڑھا دیا تھا۔ اسرائیل کے بیروت میں حزب اللہ کے ایک ہدف پر حملے کے بعد ایران نے اسرائیل پر میزائل داغے، جس کے نتیجے میں دونوں جانب سے حملوں اور جوابی حملوں کا سلسلہ شروع ہو گیا۔صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو پر دباؤ ڈالا کہ وہ مزید کارروائی سے گریز کریں، کیوں کہ انھیں خدشہ تھا کہ یہ صورت حال ایک وسیع جنگ میں تبدیل ہو سکتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق ٹرمپ ایران کے ساتھ ایک معاہدہ حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور ان کا دعویٰ ہے کہ ایران مذاکرات اور جنگ بندی کے لیے تیار ہے، جب کہ اسرائیل کا مؤقف ہے کہ ایرانی حملوں کا جواب نہ دینا کمزوری کا پیغام دے گا۔ٹرمپ کی ایک لاکھ ڈالر H-1B ویزا فیس غیر قانونی ہے، امریکی جج کا فیصلہشدید سفارتی رابطوں اور متعدد فون کالز کے بعد نیتن یاہو نے ایران کی جانب سے مزید حملے نہ ہونے کی صورت میں اپنے بڑے منصوبہ بند حملے روکنے پر رضامندی ظاہر کی۔رپورٹ کے مطابق امریکا اور اسرائیل کے تزویراتی و سیاسی مفادات میں فرق بڑھتا جا رہا ہے، ٹرمپ جنگ ختم کرنا چاہتے ہیں جب کہ بعض امریکی ذرائع کے مطابق نیتن یاہو کے سیاسی مفادات جنگ کے جاری رہنے سے وابستہ ہیں۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ شروع ہونے کے 100 دن بعد بھی ٹرمپ جنگ کے خاتمے کے لیے مطلوبہ معاہدہ حاصل نہیں کر سکے ہیں، اور گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران وہ اس جنگ کے دوبارہ مکمل شدت کے ساتھ شروع ہونے سے بچانے کی کوششوں میں مصروف رہے۔ ٹرمپ ایک مشکل صورت حال سے دوچار تھے۔ ایک طرف وہ سمجھتے تھے کہ ان کے اہم اتحادی نیتن یاہو کے لیے ایرانی میزائل حملے کا جواب دیے بغیر رہنا تقریباً ناممکن ہوگا۔ دوسری طرف انھیں خدشہ تھا کہ جوابی حملوں کا یہ سلسلہ مکمل جنگ کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔ٹرمپ نے فون پر دیے گئے ایک انٹرویو میں ایکسیوس کو بتایا کہ انھوں نے اسرائیلی وزیر اعظم کو خبردار کیا تھا کہ اگر وہ ایران کے خلاف دوبارہ جنگ شروع کرتے ہیں تو ممکن ہے انھیں اکیلے ہی لڑنا پڑے۔ادھر دو امریکی دفاعی عہدے داروں کے مطابق اگرچہ امریکی فوج نے نئے اسرائیلی حملوں میں حصہ نہیں لیا، لیکن اس نے ایرانی میزائلوں کو روکنے میں آئی ڈی ایف کی مدد کی تھی۔ ٹرمپ نے ایکسیوس کو بتایا کہ انھیں خطے کے 5 مختلف ممالک سے فون کالز موصول ہوئیں جن میں ان سے نیتن یاہو کو روکنے کے لیے دباؤ ڈالنے کی درخواست کی گئی۔ ٹرمپ نے کہا ’’یہ ممالک بہت پریشان تھے۔ انھیں وہ معاہدہ بہت پسند ہے جس پر ہم مذاکرات کر رہے ہیں۔‘‘ٹرمپ نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ پیر کی صبح ایران کی جانب سے ایسے پیغامات موصول ہوئے جن میں کہا گیا تھا کہ اگر اسرائیل حملے روک دے تو ایران بھی فائرنگ بند کرنے کے لیے تیار ہے۔ انھوں نے کہا ’’انھوں نے ہمیں فون کیا اور کہا کہ وہ مزید حملے نہیں کر رہے اور ہم اسرائیل کو بھی کہیں کہ وہ مزید حملے نہ کرے۔‘‘دو اسرائیلی حکام کے مطابق اسرائیل پیر کے روز اپریل کے بعد ایران کے خلاف سب سے بڑے حملوں کی تیاری کر رہا تھا اور درجنوں حساس اہداف کو نشانہ بنایا جانا تھا۔ ٹرمپ نے نیتن یاہو کو فون کیا اور حملے روکنے کا کہا۔ ٹرمپ نے کہا ’’بِیبی، بہتر ہے محتاط رہو، ورنہ بہت جلد تم اکیلے رہ جاؤ گے۔‘‘ نیتن یاہو اس بات پر راضی ہو گئے کہ اگر ایران حملہ نہ کرے تو اسرائیل بھی پیچھے ہٹ جائے گا۔ اس گفتگو کے بعد نیتن یاہو نے اپنے اعلیٰ فوجی کمانڈروں کو حملے منسوخ کرنے کا حکم دے دیا۔