خان سر کو آج عدالت نے ایک بڑی خوشخبری سنائی۔ پٹنہ سول کورٹ نے ان کی گرفتاری پر روک لگا دی ہے۔ خان سر پر 2 جون کو اپنے کوچنگ سنٹر کے باہر مبینہ طور پر گولی باری کروانے کا الزام ہے۔ اس کے لیے ان کے خلاف معاملہ درج کیا گیا تھا۔ گزشتہ کل، یعنی پیر کے روز انھوں نے پٹنہ کے سول کورٹ میں پیشگی ضمانت کی عرضی داخل کی تھی۔पटना, बिहार : खान सर को कोर्ट से मिली बड़ी राहत पटना सिविल कोर्ट ने गिरफ्तारी पर लगाई रोक#NewsLeader #KhanSir | Civil Court on Khan Sir pic.twitter.com/ODei4tUvZR— News Leader (@NewsLeaderLive) June 9, 2026قابل ذکر ہے کہ خان سر کے خلاف پٹنہ کے کدم کنواں تھانہ میں ایف آئی آر درج ہے۔ ایک وائرل ویڈیو کی بنیاد پر خان سر کے خلاف معاملہ درج کیا گیا ہے۔ ویڈیو 2 جون کی ہے۔ ویڈیو میں ان کے کوچنگ ادارہ کے 2 سیکورٹی گارڈ گولی باری کرتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں۔ واقعہ کے بعد یہ ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی کے ساتھ وائرل ہو گئی۔ اس کے بعد پٹنہ پولیس نے خان سر کے دونوں سیکورٹی گارڈ کو حراست میں لیا اور بعد میں انھیں گرفتار کر لیا۔دراصل 2 جون کی شب خان سر کے کوچنگ سنٹر کے باہر کچھ لوگوں نے توڑ پھوڑ اور مار پیٹ کا واقعہ انجام دیا تھا۔ اس دوران خان سر کوچنگ سنٹر کے پوسٹر بھی پھاڑے گئے اور ان کے گارڈ کے ساتھ مار پیٹ بھی ہوئی۔ خان سر نے شرپسندوں کے ذریعہ فائرنگ کا دعویٰ کیا تھا، حالانکہ بعد میں انھوں نے اسے غلط فہمی سے تعبیر کیا اور اپنا بیان واپس لے لیا۔ جب گارڈ سے فائرنگ کے بارے میں سوال کیا گیا تو انھوں نے جواب دیا کہ خان سر کے کہنے پر اپنے دفاع میں فائرنگ کی۔ اس کے بعد جانچ کا دائرہ بڑھ گیا اور پولیس نے خان سر کے خلاف آرمس ایکٹ کی دفعات کے تحت ایف آئی آر درج کی۔اس کے بعد پٹنہ کی پولیس خان سر کی تلاش میں مصروف ہو گئی۔ بتایا جاتا ہے کہ گرفتاری کے خوف سے خان سر غائب ہو گئے۔ پیر کے روز ان کے وکیلوں نے پٹنہ سول کورٹ میں پیشگی ضمانت کی عرضی داخل کی۔ حالانکہ اس سے قبل ان کے عدالت میں خود سپردگی کرنے کی بھی خبریں آئیں، لیکن وہ عدالت نہیں پہنچے۔ اس کے بعد پیشگی ضمانت عرضی داخل کی گئی۔ آج، یعنی 9 جون کو پٹنہ سول کورٹ نے ان کی گرفتاری پر روک لگا دی۔