تہران : اسرائیل نے ایران کے شہر ماہشہر میں پیٹروکیمیکل تنصیب اور تبریز کے فوجی مرکز پر حملے کردیئے۔تفصیلات کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی انتہائی سنگین حد تک بڑھ گئی ہے۔ اسرائیلی فوج نے ایران کے متعدد شہروں میں اہم معاشی اور عسکری تنصیبات پر بیک وقت بڑے فضائی حملے کیے ہیں۔ اسرائیلی دفاعی حکام اور ایرانی سرکاری میڈیا دونوں نے ہی ان حملوں کی تصدیق کر دی ہے۔اسرائیلی فوج نے ایران کے جنوب مغرب میں خلیج فارس کے شمالی ساحل کے قریب واقع شہر ماہشہر میں ایک اہم پیٹروکیمیکل صنعتی کمپلیکس کے متعدد اہم مقامات کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ایرانی ذرائع ابلاغ اور خوزستان کے سیکیورٹی عہدیدار نے بتایا کہ اسرائیلی حملے کے نتیجے میں "کارون پیٹروکیمیکل کمپنی” کے پلانٹ کے ایک حصے کو جزوی طور پر نقصان پہنچا ہے۔الجزیرہ اور مقامی حکام کے مطابق نقصانات اور ممکنہ جانی نقصان سے متعلق حتمی تفصیلات کا جائزہ لیا جا رہا ہے جو بعد میں جاری کی جائیں گی۔ایرانی میڈیا کے مطابق، آج صبح سویرے ایران کے شہر تبریز میں واقع ایک فوجی مرکز کو بھی اسرائیلی فضائی حملوں میں نشانہ بنایا گیا تاہم خوش قسمتی سے تبریز کے فوجی مرکز پر ہونے والے اس حملے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا اور صورتحال کنٹرول میں ہے۔ایرانی مہر نیوز ایجنسی کے مطابق، تبریز اور ماہشہر کے ساتھ ساتھ ایران کے دارالحکومت تہران اور اہم شہر اصفہان میں بھی بیک وقت زوردار دھماکے سنے گئے ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسرائیل نے ایران کے دفاعی اور صنعتی انفراسٹرکچر کو بڑے پیمانے پر نشانہ بنانے کی کوشش کی ہے۔عالمی میڈیا کے مطابق، پیٹروکیمیکل جیسی اہم معاشی تنصیب اور عسکری مراکز پر بیک وقت حملے خطے کی صورتحال کو ایک خطرناک جنگ کی طرف دھکیل سکتے ہیں۔ایرانی فضائی دفاعی نظام کو فعال کر دیا گیا ہے، اور نقصانات کا درست تعین کرنے کے لیے دونوں ممالک کے بیانات اور رپورٹس کا سلسلہ جاری ہے۔