ایران-اسرائیل جنگ نے ہندوستانی شیئر مارکیٹ کو دیا دھچکا، سنسیکس 800 سے زیادہ پوائنٹس پھسلا، نفٹی کی بھی حالت خستہ

Wait 5 sec.

8 جون کو ہفتہ کے پہلے دن ہندوستانی شیئر مارکیٹ میں کاروبار کا آغاز بڑی گراوٹ کے ساتھ ہوا۔ بی ایس ای کا 30 حصص پر مشتمل حساس اشاریہ سینسیکس 821 پوائنٹس پھسل کر 73421 کی سطح پر کھلا۔ وہیں این ایس ای کا نفٹی-50، 286 پوائنٹس کی گراوٹ کے ساتھ 23080 کی سطح پر کاروبار شروع کرتا نظر آیا۔ سینسیکس میں اس وقت تمام شیئرز سرخ نشان میں کاروبار کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔ صرف بڑے شیئرز ہی نہیں بلکہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے شیئرز میں بھی بھاری فروخت دیکھی جا رہی ہے۔ نفٹی مڈ کیپ اور اسمال کیپ اشاریے 1.5 فیصد سے زیادہ کی گراوٹ کے ساتھ کاروبار کر رہے ہیں۔شیئر مارکیٹ کی بری حالت کی وجہ ایران اور اسرائیل کے درمیان تازہ حملے ہیں۔ تازہ حملوں نے سرمایہ کاروں کے درمیان تشویش پیدا کر دی ہے۔ ایران کی جانب سے اسرائیل پر کیے گئے میزائل حملوں کے باعث عالمی جغرافیائی سیاسی کشیدگی اپنے عروج پر پہنچ گئی، جس کے بعد سرمایہ کاروں نے شیئر مارکیٹ سے پیسہ نکالنا شروع کر دیا۔ جنگ کے باعث آج خام تیل کی قیمت بھی 8600 روپے سے تجاوز کر گئی ہے۔ خلیجی ممالک میں تنازعہ کی وجہ سے سپلائی چین متاثر ہونے کے خدشے کے سبب بین الاقوامی بازاروں میں خام تیل کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے، جو ہندوستانی معیشت کے لیے کسی بڑے جھٹکے سے کم نہیں۔قابل ذکر ہے کہ ہندوستانی بازار کے کھلنے سے عین قبل جنوبی کوریا کا کوسپی اشاریہ 8 فیصد اور جاپان کا نکیئی اشاریہ 4.2 فیصد تک گر گیا، جس کا منفی اثر ہندوستانی سرمایہ کاروں کے جذبات پر بھی پڑا۔ جاپان کا نکیئی اشاریہ بھی آج تقریباً 2780 پوائنٹس گر کر 63804 کی سطح پر آ گیا ہے۔ ہانگ کانگ کے ہینگ سینگ اشاریے کا بھی کچھ ایسا ہی حال رہا، جو تقریباً 1.34 فیصد کی گراوٹ کے ساتھ 24630 کی سطح پر کاروبار کرتا نظر آیا۔ایران کی جانب سے اسرائیل پر میزائل داغے جانے کے بعد امریکی بنچ مارک اشاریوں سے منسلک فیوچرز میں بھی گراوٹ دیکھی گئی۔ ڈاؤ جونز انڈسٹریل ایوریج سے وابستہ فیوچرز 124 پوائنٹس یعنی 0.25 فیصد مزید گر گئے۔ ایس اینڈ پی 500 فیوچرز اور نیسدیک 100 فیوچرز میں بھی 0.2 فیصد کی کمی درج کی گئی۔