اترپردیش کے ہائی ٹیک شہر کہے جانے والے نوئیڈا میں مہنگا موبائل، برانڈیڈ کپڑے، لکژری موٹر سائیکل اور پُر تعیش زندگی جینے کی خواہش نوجوانوں کو جرائم کی تاریک دنیا کی طرف دھکیل رہی ہے۔ کم عمر میں بغیر محنت پیسے والا بننے اور دوستوں کے درمیان خود کو ہائی فائی دکھانے کے لیے 18 سے 20 سال کے نوجوان اپنا مستقبل داؤ پر لگا رہے ہیں۔ اس سلسلے میں قومی راجدھانی سے ملحق گوتم نگر کمشنریٹ پولیس کی طرف سے جاری گزشتہ 2 برسوں کے اعداد و شمار چونکانے والے ہیں جن میں 217 نوجوان جیل جا چکے ہیں۔پولو کلب اور جم خانہ کی زمین حکومت کو کیوں چاہیے؟ دہلی ہائی کورٹ کا مرکز سے سوالان میں بڑی تعداد ایسے نوجوانوں کی ہے جو اپنی ضروریات اور مہنگے شوق پورے کرنے کے لیے جرائم کی راہ پر نکل پڑے۔ پولیس جانچ میں سامنے آیا ہے کہ کئی نوجوان پُر تعیش زندگی جینے، مہنگے لائف اسٹائل، موبائل، برانڈیڈ کپڑے خریدنے اور موج-مستی کے لیے چوری، چین اسنیچنگ اور نشے کی اسمگلنگ جیسی وارداتوں میں شامل ہوئے۔ گوتم بدھ نگر پولیس کمشنریٹ کے مطابق گزشتہ 2 برسوں میں پکڑے گئے 217 نوجوانوں میں سب سے زیادہ ملزم چوری کی وارداتوں میں ملوث پائے گئے۔ پولیس نے چوری کے معاملوں میں 142 سے زیادہ نوجوانوں کو گرفتار کیا۔ وہیں چین اسنیچنگ کے معاملوں میں 48 اور گانجا سمیت دیگر نشہ آور مادے کی اسمگلنگ میں بھی نوجوانوں پر کارروائی کی گئی۔پوچھ گچھ کے دوران کئی ملزمین نے پولیس کو بتایا کہ ان کی کمائی کا کوئی مستقل ذریعہ نہیں ہے اس کے باوجود وہ مہنگی چیزوں کے شوقین ہیں۔ انہیں ضرورتوں کو پورا کرنے کے لیے انہوں نے غلط راستہ اختیار کیا اور جرائم کی دنیا میں قدم رکھا۔ پولیس افسران کا کہنا ہے کہ چھوٹی عمر میں جرائم کی شروعات نوجوانوں کے مستقبل کو متاثر کرسکتی ہے۔ کچھ وقت موج-مستی اور دکھاوے کے لئے اٹھایا گیا غلط قدم نہ صرف نوجوانوں بلکہ ان کے خاندانوں کے لئے بھی پریشانی کا سبب بن جاتا ہے۔خوفناک ہے دہلی میں پیش آئے جرائم کا ڈاٹا، جن بچوں کو تعلیم میں لگانا چاہیے تھا دل وہ لوٹ اور زنا میں ملوث!نوئیڈا کے جوائنٹ پولیس کمشنر راجیو نارائن نے سرپرستوں سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ بچوں کی سرگرمیوں پر نظر رکھنا ضروری ہے۔ بچے کس کے ساتھ اُٹھ-بیٹھ رہے ہیں، ان کی ضرورتیں اچانک کیسے بڑھ رہی ہیں اور مہنگی چیزوں کے لیے ان کے پاس پیسہ کہاں سے آرہا ہے، اس پر خاندان کو نظر رکھنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ اگر بر وقت بچوں کو صحیح سمت دی جائے تو انہیں جرائم کی دنیا میں جانے سے روکا جاسکتا ہے۔ پولیس بھی ایسے معاملوں میں لگاتار کارروائی کے ساتھ نوجوانوں کو بیدار کرنے کا کام کررہی ہے تاکہ ان کا مستقبل جرائم کی وجہ سے برباد نہ ہو۔