میناکشی نٹراجن کی نامزدگی مسترد ہونے پر کھڑگے کا ردعمل، ’مودی کے اشارے پر جمہوریت کا قتل‘

Wait 5 sec.

نئی دہلی: کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے میناکشی نٹراجن کی راجیہ سبھا نامزدگی مسترد کیے جانے پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اسے جمہوریت کے خلاف قدم قرار دیا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ اس طرح کی کارروائی نریندر مودی کے اشارے کے بغیر ممکن نہیں اور یہ اپوزیشن کو کمزور کرنے کی ایک منظم کوشش کا حصہ ہے۔کھڑگے نے کہا کہ میناکشی نٹراجن کا راجیہ سبھا نامزدگی فارم مسترد کیا جانا غیرقانونی اور جمہوری اصولوں کے منافی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کانگریس اور جمہوریت کو نقصان پہنچانے کے لیے سازشیں کی جا رہی ہیں اور سرکاری اداروں کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ اہم عہدوں پر ایسے افراد کو بٹھایا جا رہا ہے جو غیرجانبدارانہ طریقے سے کام نہیں کر رہے۔کانگریس صدر نے دعویٰ کیا کہ اسی نوعیت کے اقدامات پہلے بھی مختلف ریاستوں میں دیکھنے کو ملے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بعض امیدواروں کو نامزدگی فارم میں خامیوں کی اصلاح کے لیے وقت دیا جاتا ہے، جبکہ اپوزیشن کے امیدواروں کے ساتھ مختلف سلوک اختیار کیا جاتا ہے۔ ان کے مطابق اس سے انتخابی عمل کی شفافیت اور غیرجانبداری پر سوالات کھڑے ہوتے ہیں۔دوسری جانب کانگریس نے الزام لگایا ہے کہ راجیہ سبھا انتخاب میں میناکشی نٹراجن کی نامزدگی مسترد کرکے حکمراں جماعت اور انتخابی حکام نے مل کر ایک نشست چھیننے کی کوشش کی ہے۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ نامزدگی مسترد کرنے کا فیصلہ ناقص اور غیرمنطقی بنیادوں پر کیا گیا۔دہلی میں منعقدہ ایک پریس کانفرنس میں میناکشی نٹراجن نے کہا کہ انہوں نے فارم نمبر 26 مکمل طور پر پُر کیا تھا اور اس میں ذاتی شکایات یا بعض دیگر تفصیلات درج کرنے کے لیے کوئی علیحدہ خانہ موجود نہیں تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ایسا کوئی خانہ موجود ہوتا تو وہ مطلوبہ معلومات ضرور فراہم کرتیں۔مدھیہ پردیش کانگریس کے صدر جیتو پٹواری نے بھی اس معاملے پر سخت اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستانی سیاست میں شاید یہ پہلا موقع ہے کہ راجیہ سبھا کے کسی امیدوار کی نامزدگی اس طرح مسترد کی گئی ہو اور یہ معاملہ قومی سطح پر بحث کا موضوع بن گیا ہے۔انہوں نے الزام لگایا کہ راجیہ سبھا انتخاب میں کانگریس کی یکجہتی اور سرگرمیوں سے حکمراں جماعت پریشان ہوگئی تھی، جس کے بعد ایسے طریقے اختیار کیے گئے جو عموماً مقامی سطح کے انتخابات میں دیکھنے کو ملتے ہیں۔ کانگریس نے مطالبہ کیا ہے کہ اس معاملے کی غیرجانبدارانہ جانچ کرائی جائے تاکہ انتخابی عمل پر عوام کا اعتماد برقرار رہ سکے۔