نئی دہلی: مرکزی ثانوی تعلیم بورڈ (سی بی ایس ای) کی 12ویں جماعت کے نتائج کے بعد ڈیجیٹل جانچ کے نظام میں مبینہ خامیوں کی تحقیقات اور ری ویلیوایشن پورٹل دوبارہ کھولنے کے مطالبے سے متعلق دائر عرضی پر جمعہ کو دہلی ہائی کورٹ میں سماعت ہوئی۔ عدالت نے قومی طلبہ یونین آف انڈیا (این ایس یو آئی) کی اس درخواست پر فوری راحت دینے سے انکار کر دیا جس میں ری ویلیوایشن کے لیے پورٹل دوبارہ کھولنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔سماعت کے دوران دہلی ہائی کورٹ نے کہا کہ اگر ری ویلیوایشن پورٹل دوبارہ کھولا جاتا ہے تو اس کے اثرات تقریباً 17 لاکھ طلبہ پر پڑ سکتے ہیں۔ عدالت کے مطابق اس مرحلے پر جانچ اور نتائج سے متعلق جاری عمل میں کسی بھی قسم کی تبدیلی سے نہ صرف نتائج کے بعد کی کارروائیاں متاثر ہوں گی بلکہ اعلیٰ تعلیمی اداروں میں داخلوں کا پورا نظام بھی متاثر ہو سکتا ہے۔مرکزی حکومت کی جانب سے پیش ہونے والے سالیسٹر جنرل نے عدالت کو بتایا کہ اب تک ایک لاکھ 67 ہزار طلبہ ری ویلیوایشن کے لیے درخواست دے چکے ہیں اور مزید درخواستیں قبول کرنے کی گنجائش موجود نہیں ہے۔ انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ اگر پورٹل دوبارہ کھولا گیا تو پہلے ہی درخواست دینے والے طلبہ کی کونسلنگ اور دیگر تعلیمی سرگرمیاں متاثر ہوں گی۔مرکز نے عدالت کو یہ بھی بتایا کہ ری ویلیوایشن کے عمل کو دوبارہ شروع کرنے کی صورت میں نتائج کے حتمی ہونے میں تاخیر ہوگی، جس کا براہ راست اثر مختلف تعلیمی اداروں میں داخلوں کے لیے جاری کونسلنگ کے عمل پر پڑے گا۔ حکومت کے مطابق موجودہ مرحلے پر کسی بھی اضافی تبدیلی سے لاکھوں طلبہ کے تعلیمی مستقبل پر اثر پڑ سکتا ہے۔تاہم عدالت نے واضح کیا کہ اگر کسی طالب علم یا سرپرست کو اپنے معاملے میں کوئی مخصوص شکایت ہے تو وہ انفرادی طور پر عدالت سے رجوع کر سکتا ہے اور اس سلسلے میں علیحدہ عرضی دائر کرنے کے لیے آزاد ہے۔ عدالت نے فی الحال معاملے کی مزید سماعت ملتوی کر دی ہے۔اس سے قبل سی بی ایس ای نے 8 جون کو جاری اپنے بیان میں کہا تھا کہ سرکاری تکنیکی ایجنسیوں اور بھارتی تکنیکی اداروں کی ٹیموں کی نگرانی میں تصدیق اور ری ویلیوایشن کے لیے درخواستوں کی کھڑکی 2 جون سے 7 جون تک مقررہ مدت کے دوران مکمل طور پر فعال رہی۔ بورڈ کے مطابق اس عرصے میں ایک لاکھ 60 ہزار سے زائد امیدواروں نے تین لاکھ 80 ہزار سے زیادہ جوابی کاپیوں کے لیے کامیابی کے ساتھ درخواستیں جمع کرائیں۔سی بی ایس ای کا کہنا تھا کہ درخواستوں کی بڑی تعداد اس بات کا ثبوت ہے کہ نتائج کے بعد فراہم کی جانے والی ان سہولتوں سے طلبہ نے وسیع پیمانے پر فائدہ اٹھایا اور پورا نظام مقررہ مدت کے دوران معمول کے مطابق کام کرتا رہا۔