راجستھان کے اسپتال میں زچہ کی زندگی داؤ پر! سی-سیکشن کے بعد 6 خواتین کی کڈنی خراب، حالت نازک

Wait 5 sec.

راجستھان کے کوٹا ڈویزن کے بعد اب بیکانیر کے سب سے بڑے پی بی ایم اسپتال سے مریض کی سیکورٹی کے حوالے سے ایک بے حد حیران کن اور خوفزدہ کرنے والا معاملہ سامنے آیا ہے۔ اسپتال کے  زچہ وارڈ (خواتین اسپتال) میں سیزیرین ڈیلیوری (سی-سیکشن) کے بعد 6 زچہ کی طبیعت اچانک بگڑ گئی اور ان کی کڈنی نے کام کرنا بند دیا۔ ایکیوٹ کڈنی انجری کی شکایت کے بعد اسپتال انتظامیہ میں افراتفری مچ گئ جس کے بعد آناً فاناً سبھی 6 متاثرہ خواتین کو سنگین حالت میں آئی سی یو میں منتقل کیا گیا ہے جہاں ڈاکٹروں کی خصوصی نگہداشت میں ان کا ڈائلیسس کیا جا رہا ہے۔دہرادون: اسپتال کے اے سی میں شارٹ سرکٹ سے لگی آگ، بزرگ خاتون کی موت، 2 دیگر کی حالت تشویشناکاسپتال ذرائع کے مطابق اس سنگین طبی پیچیدگی کا شکار ہونے والی تمام خواتین کی عمر 20 سے 27 سال کے درمیان ہیں۔ ان میں سے پھلودی کی رہنے والی 20 سالہ حاملہ پریتی کی حالت انتہائی تشویشناک ہے۔ اسے کڈنی میں شدید انفیکشن کی وجہ سے وینٹی لیٹر پر رکھا گیا ہے۔ ایک ساتھ 6 خواتین کی کڈنی متاثر ہونے کی اس واردات نے زچگی کے لیے آئے خاندانوں کو گہری تشویش اور خوف میں مبتلا کردیا ہے۔اس سنگین معاملے کے بارے میں ایس پی میڈیکل کالج کے پرنسپل ڈاکٹر سریندر ورما نے سرکاری بیان جاری کرکے بتایا کہ حاملہ خواتین میں اکیو کڈنی انجری (گردے کی شدید چوٹ) کی کئی تکنیکی وجوہات ہو سکتی ہیں۔ حالانکہ انہوں نے آپریشم تھیٹر یا وارڈ میں کسی طرح کے مہلک بیکٹیریل انفیکشن کے امکان سے انکار نہیں کیا ہے۔دہلی میں بڑھتی ہوئی جگر کی بیماریوں سے نمٹنے کے لیے 'دہلی ماڈل' کا افتتاحمعاملے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے اسپتال انتظامیہ اب وارڈٰ میں جدید ترین انفیکشن ڈٹیکٹر مشین لگانے کا منصوبہ بنا رہی ہے، جو محض 90 سیکنڈ کے اندر کسی بھی قسم کے انفیکشن کی شناخت کر نے کے قابل ہوگی۔ کوٹا کے بعد بیکانیر کے بڑے سرکاری اسپتال میں سامنے آئے اس معاملے نے ریاست کی میڈیکل خدمات، آپریشن تھیٹروں کے سینیٹائزیشن اور زچگی سیکورٹی کے معیار پر سنگین سوال کھڑے کردیئے ہیں۔ فی الحال اس پورے معاملے کی وجوہات کا پتہ لگانے کےلئے انتظامی اور طبی ٹیموں کے ذریعہ اعلیٰ سطحی جانچ کی جارہی ہے۔