پولو کلب اور جم خانہ کی زمین حکومت کو کیوں چاہیے؟ دہلی ہائی کورٹ کا مرکز سے سوال

Wait 5 sec.

دہلی ہائی کورٹ نے پولو کلب، جم خانہ کلب اور دہلی ریس کلب کی زمین واپس لینے کے مرکزی حکومت کے فیصلے پر سخت سوالات اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ آلودگی سے پہلے ہی متاثر دہلی میں موجود محدود سبز مقامات کو بھی ختم کرنے کی کوشش تشویش کا باعث ہے۔ عدالت نے یہ ریمارکس انڈین پولو ایسوسی ایشن کی جانب سے مرکزی حکومت کے زمین خالی کرنے کے نوٹس کے خلاف دائر درخواست کی سماعت کے دوران دیے۔جسٹس نینا بنسل کرشنا نے سماعت کے دوران کہا کہ حکومت کو پولو کلب یا جم خانہ کلب کی زمین کی اچانک ضرورت کیوں پیش آ گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ دو سو برس کے دوران حکومت کو ان زمینوں کی ضرورت محسوس نہیں ہوئی، لیکن اب انہیں خالی کرا کے کیا منصوبہ بنایا جا رہا ہے، اس بارے میں حکومت ہی بہتر جانتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہلی میں مسلسل تعمیرات اور بلند و بالا عمارتوں کی وجہ سے شہر کی فضا متاثر ہو رہی ہے اور لوگوں کے لیے سانس لینا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔مرکزی حکومت کی جانب سے پیش ہونے والے وکیل آشیش دکشت نے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ زمین عوامی مفاد کے لیے واپس لی جا رہی ہے۔ ان کے مطابق حکومت کے پاس دستیاب زمین محدود ہے جبکہ ملک کی بڑھتی ہوئی آبادی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے زمین کا مؤثر استعمال ضروری ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ پولو کلب کی سہولیات سے صرف چند سو افراد فائدہ اٹھا رہے ہیں، اس لیے زمین کو وسیع عوامی مقاصد کے لیے استعمال کرنا زیادہ مناسب ہوگا۔اس پر جسٹس نینا بنسل کرشنا نے کہا کہ نئی دہلی میونسپل کونسل کے علاقوں میں جو تھوڑی بہت کھلی اور سرسبز جگہ باقی ہے، وہ بھی ختم ہوتی جا رہی ہے۔ انہوں نے تشویش ظاہر کی کہ اگر اسی طرح بلند عمارتوں کی تعمیر جاری رہی تو دہلی کے ماحول پر مزید منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ عدالت نے طنزیہ انداز میں کہا کہ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے دہلی کے لوگوں کو شہر چھوڑ کر پہاڑی علاقوں میں جا کر رہنا پڑے گا، کیونکہ شہر میں رہائش کے لیے سازگار ماحول باقی نہیں رہے گا۔جسٹس کرشنا نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ کیا بیس منزلہ عمارتوں کی تعمیر واقعی عوامی مفاد میں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر شہری ترقی کا تصور صرف بلند عمارتوں تک محدود ہو گیا تو اس کے نتائج دہلی کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں۔اگرچہ عدالت نے سماعت کے دوران حکومت کے فیصلے پر سوالات اٹھائے، تاہم انڈین پولو ایسوسی ایشن کو فوری راحت دینے سے گریز کیا۔ دہلی ہائی کورٹ نے درخواست نمٹا دی اور پٹیالہ ہاؤس عدالت کو ہدایت دی کہ وہ ایسوسی ایشن کی زیر التوا درخواست پر 10 جون کو سماعت کرتے ہوئے جلد فیصلہ کرے۔