نئی دہلی: دہلی پردیش کانگریس کمیٹی کے سینئر ترجمان ڈاکٹر نریش کمار نے وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا کی جانب سے وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت والی مرکزی حکومت کے 12 سال مکمل ہونے پر منائے جا رہے جشن کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت نے عوام کو ترقی نہیں بلکہ مہنگائی کا تحفہ دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گھریلو گیس سلنڈر کی قیمت میں 29 روپے کا اضافہ کر کے اسے 942 روپے تک پہنچا دیا گیا ہے، جبکہ پٹرول کی قیمتوں میں بھی اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ ایسے وقت میں حکومت اپنی کامیابیوں کا جشن منانے میں مصروف ہے جبکہ عوام مہنگائی کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں۔ڈاکٹر نریش کمار نے کہا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کے رہنما اس بات پر خوشی منا رہے ہیں کہ نریندر مودی نے وزیر اعظم کے طور پر طویل مدت مکمل کی ہے لیکن کسی رہنما کی عظمت کا پیمانہ صرف اقتدار میں گزارا گیا وقت نہیں ہوتا۔ انہوں نے کہا کہ پنڈت جواہر لال نہرو نے آزاد ہندوستان کی جمہوری، سائنسی اور ادارہ جاتی بنیادیں مضبوط کیں اور ملک کو متعدد اہم ادارے دیے، جبکہ موجودہ حکومت کو اپنے 12 برسوں کی کارکردگی کا حساب دینا چاہیے۔انہوں نے الزام لگایا کہ گزشتہ برسوں کے دوران مہنگائی نے عام آدمی کی زندگی مشکل بنا دی ہے۔ گیس سلنڈر، پٹرول اور ڈیزل کے ساتھ ساتھ روزمرہ استعمال کی اشیا، دالوں اور سبزیوں کی قیمتوں میں اضافے نے غریب اور متوسط طبقے کے گھریلو بجٹ کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو بتانا چاہیے کہ مہنگائی پر قابو پانے کے وعدوں کا کیا نتیجہ نکلا۔ڈاکٹر نریش کمار نے بے روزگاری کے مسئلے کو بھی اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ نوجوان آج بھی روزگار کی تلاش میں دربدر ہیں۔ کروڑوں ملازمتیں فراہم کرنے کے دعوے کیے گئے تھے، لیکن نوجوانوں کو مستقل روزگار میسر نہیں آ سکا۔ انہوں نے کہا کہ چھوٹے کاروباری طبقے اور متوسط خاندان بھی معاشی دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔انہوں نے دہلی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ دارالحکومت کے لوگ پانی کی قلت، آلودگی، ٹریفک جام اور دیگر بنیادی مسائل سے پریشان ہیں لیکن حکومت ان مسائل کے حل کے بجائے سیاسی تقریبات اور تشہیری سرگرمیوں میں مصروف دکھائی دیتی ہے۔ڈاکٹر نریش کمار نے دہلی کے دیہی علاقوں اور کسانوں کے مسائل کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ تقریباً 197 دیہات کے کسان برسوں سے اپنی مانگوں کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں، مگر ان کی آواز نہیں سنی جا رہی۔ انہوں نے کہا کہ زرعی زمینوں کے سرکل ریٹ میں اضافے، زرعی ریاست کا درجہ دینے اور لینڈ پولنگ منصوبے جیسے معاملات اب بھی التوا کا شکار ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کسانوں کو کھاد، بیج اور دیگر زرعی سامان بھی آسانی سے دستیاب نہیں ہو رہا، جس سے ان کی مشکلات بڑھ رہی ہیں۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ دیہی نوجوانوں اور کھلاڑیوں کے لیے کیے گئے وعدے بھی پورے نہیں ہوئے اور گھویرا میں مجوزہ اسپورٹس یونیورسٹی اب تک حقیقت کا روپ نہیں دھار سکی۔ ڈاکٹر نریش کمار نے مطالبہ کیا کہ وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا جشن منانے کے بجائے دہلی کی عوام، کسانوں اور دیہی علاقوں سے متعلق مسائل کے حل پر توجہ دیں کیونکہ عوام کو دعووں کے بجائے جوابدہی اور عملی کام درکار ہے۔