تہران : یوٹیوب نے امریکی پابندیوں کو جواز دے 75 سے زائد ایرانی چینلز کو بلاک کر دیا، جن کے نام امریکی بلیک لسٹ میں شامل ہیں۔تفصیلات کے مطابق گوگل اور یوٹیوب نے امریکی پابندیوں کو جواز بنا کر ایران کے سرکاری میڈیا آؤٹ لیٹ ‘فارس نیوز ایجنسی’ اور متعدد اہم ایرانی شخصیات و اداروں سے وابستہ 75 سے زائد یوٹیوب چینلز کو مستقل طور پر بلاک کر دیا۔یہ کارروائی ایک امریکی غیر سرکاری تنظیم کی تحقیقاتی رپورٹ سامنے آنے کے بعد کی گئی، اس تحقیقاتی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ یوٹیوب امریکی پابندیوں کی زد میں آئے ہوئے ایرانی چینلز پر اشتہارات دکھا رہا ہے اور انہیں کمرشل خدمات فراہم کر رہا ہے، جو کہ امریکی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔تحقیقات کے بعد گوگل اور یوٹیوب نے کارروائی کرتے ہوئے ان تمام چینلز کو بند کر دیا، جن کے نام امریکی بلیک لسٹ میں شامل ہیں۔یوٹیوب کا دعویٰ ہے کہ یہ چینلز براہِ راست یا بالواسطہ طور پر پابندیوں کا شکار ایرانی افراد اور اداروں سے منسلک تھے۔پابندی کی زد میں آنے والے بڑے اداروں اور شخصیات میں ایران کا معروف ترین میڈیا آؤٹ لیٹ فارس نیوز ایجنسی، بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی جامعہ المصطفیٰ ، ایران کے اعلیٰ ترین رہنما کے مشیرِ خارجہ علی اکبر ولایتی اور معروف ایرانی بزنس مین بابک زنجانی شامل ہیں۔امریکی جریدوں کے مطابق، گوگل انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ وہ بین الاقوامی قوانین اور امریکی پابندیوں کی پاسداری کے تحت ایسی تمام سرگرمیوں کو روکنے کے لیے پرعزم ہے جو بلیک لسٹڈ عناصر کو کسی بھی قسم کا ڈیجیٹل پلیٹ فارم یا ریونیو فراہم کرتی ہوں۔دوسری جانب، ایرانی حلقوں کی جانب سے اس اقدام کو آزادیِ اظہارِ رائے پر قدغن اور ڈیجیٹل سینسر شپ قرار دیا جا رہا ہے۔