واشنگٹن (10 جون 2026): ایک طرف ایران جنگ سے ساری دنیا پریشان ہے دوسری طرف امریکا نے اس آڑ میں اپنے خزانے دولت سے بھر لیے ہیں۔امریکا نے ایران اور مغربی ایشیا میں جاری کشیدگی کے دوران توانائی کی عالمی منڈی میں پیدا ہونے والے بحران سے بھرپور فائدہ اٹھایا۔ جنگ کے باعث خام تیل کی سپلائی چین متاثر ہوئی اور قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے بھی اوپر چلی گئیں، جس سے امریکا جیسے بڑے تیل برآمد کنندہ ملک کی آمدنی میں نمایاں اضافہ ہوا۔اپریل میں امریکا کی مجموعی برآمدات ریکارڈ سطح پر پہنچ گئیں، جب کہ تجارتی خسارے میں بھی کمی دیکھی گئی۔ امریکی محکمہ کامرس کے مطابق اپریل میں برآمدات 2.6 فی صد اضافے کے بعد 327.1 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، جو اب تک کی بلند ترین سطح ہے۔ اسی دوران امریکی تجارتی خسارہ 1.2 فی صد کم ہو کر 55.9 ارب ڈالر رہ گیا۔ مارچ کے تجارتی خسارے کا تخمینہ بھی نظرثانی کے بعد 60.3 ارب ڈالر سے کم کر کے 56.6 ارب ڈالر کر دیا گیا۔3 ارب ڈالر ایرانی اثاثے ابوظبی سے تہران منتقل، اسرائیلی میڈیا کا دعویٰ، ایرانی نائب وزیر خارجہ کی تردیدبرآمدات میں اضافے کی بڑی وجہ اشیا کی فروخت میں بہتری رہی۔ صرف اشیا کی برآمدات 4.1 فی صد بڑھ کر 221.3 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئیں۔ امریکی برآمدات میں سب سے نمایاں کردار پٹرولیم مصنوعات کا رہا۔ مغربی ایشیا میں کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر چلی گئیں۔ امریکا، جو تیل برآمد کرنے والے بڑے ممالک میں شامل ہے، نے اس صورت حال سے فائدہ اٹھایا۔اپریل میں امریکا کی پٹرولیم مصنوعات کی برآمدات 36.7 ارب ڈالر رہیں، جب کہ مارچ میں یہ 27.6 ارب ڈالر تھیں۔ اس اضافے کی وجہ صرف بلند قیمتیں نہیں بلکہ تیل کی برآمدی مقدار میں اضافہ بھی تھا۔تیل کی عالمی طلب میں اضافے سے دیگر صنعتی مصنوعات کی برآمدات کو بھی سہارا ملا۔ صنعتی سامان اور سپلائیز کی برآمدات بڑھ کر 89 ارب ڈالر کی ریکارڈ سطح پر پہنچ گئیں۔ اسی طرح امریکی پٹرولیم تجارتی سرپلس مارچ کے 9.4 ارب ڈالر سے بڑھ کر 17.7 ارب ڈالر ہو گیا۔ماہرین کے مطابق اگر برآمدات کی موجودہ رفتار برقرار رہی تو سال کی دوسری سہ ماہی میں امریکی اقتصادی نمو کو مزید تقویت مل سکتی ہے۔