عدالت کا غیر قانونی حراست پر متاثرہ کو 2 لاکھ روپے معاوضہ دینے کا حکم، ذمہ دار افسر کی تنخواہ سے کی جائے گی وصولی

Wait 5 sec.

الٰہ آباد ہائی کورٹ نے پریاگ راج کمشنریٹ میں پولیس کی جانب سے اختیارات کے غلط استعمال اور غیر قانونی حراست معاملے میں سخت موقف اختیار کیا ہے۔ عدالت نے ریاستی حکومت حکم دیا ہے کہ وہ متاثرہ شخص کو 6 ہفتے کے اندر 2 لاکھ روپے کا معاوضہ دے۔ بعد میں یہ رقم ذمہ دار اسسٹنٹ کمشنر آف پولیس، بارہ، پریاگ راج کی تنخواہ سے تادیبی تحقیقات کے بعد وصولی جائے۔’یوپی میں منمانی اور سیاسی آقاؤں کو خوش کرنے کا کھیل عروج پر‘، افسران کے طریقہ کار سے الٰہ آباد ہائی کورٹ سخت ناراضیہ حکم جسٹس سدھارتھ اور جسٹس ونے کمار دویدی کی ڈویژن بنچ نے منصور احمد عرف للو کی جانب سے داخل ہیبیس کارپس کی عرضی پر دیا ہے۔ عدالت نے سماعت کے دوران پایا کہ عرضی گزار کو 19 مارچ 2026 کو حراست میں لیا گیا تھا۔ پولیس نے مناسب قانونی طریقۂ کار پر عمل کیے بغیر اسے براہ راست جیل بھیج دیا تھا۔ قانونی طور پر عرضی گزار کو ذاتی مچلکہ بھرنے کا موقع دیا جانا چاہیے تھا۔ قوانین پر عمل کیے بغیر 8 دنوں تک جیل میں رکھنا غیر قانونی مانا گیا ہے۔ہائی کورٹ نے ریاستی حکومت کو ہدایت دی ہے کہ مستقبل میں کسی بھی شخص کو حراست میں لینے پر ذاتی مچلکے پر ہی رہا کیا جائے۔ اگر کوئی شخص ذاتی مچلکہ دینے سے انکار کرتا ہے تو اس کی تحریری یا آڈیو-ویزول ریکارڈنگ ضروری ہوگی۔ ان احکامات کی خلاف ورزی ہونے پر روزانہ 25000 روپے کا معاوضہ دیا جائے اور قصوروار افسران کے خلاف تادیبی کارروائی کی جائے۔’غیر قانونی حراست‘ کے لیے متاثرہ کو 5 لاکھ روپے معاوضہ دے حکومت، الٰہ آباد ہائی کورٹ کا حکمعدالت نے ذاتی مچلکہ بھرنے کا موقع نہ دیے جانے کو حیران کن قرار دیا۔ ساتھ ہی کہا کہ کمشنریٹ میں پولیس افسران کو دیے گئے مجسٹریٹ کے اختیارات کا بڑے پیمانے پر غلط استعمال ہو رہا ہے۔ عدالت نے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ صرف پریاگ راج کمشنریٹ میں ہی رواں سال اب تک 721 لوگوں کو اسی طرح غیر قانونی طور پر حراست میں لیا گیا ہے۔