اسلام آباد مفاہمتی یادداشت حتمی مرحلے کے قریب پہنچ گئی، ایران

Wait 5 sec.

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت حتمی مرحلے کے قریب پہنچ گئی ہے معاہدے کی تکمیل پہلے سے کہیں زیادہ قریب ہے لہذا حتمی شکل دیے جانے تک میڈیا قیاس آرائیوں سے گریز کرے۔عباس عراقچی نے بیان میں کہا کہ معاہدے کے مندرجات سے متعلق غیرمصدقہ خبروں پر تبصرہ مناسب نہیں، ذمہ دار اور شفاف پالیسی کے تحت تمام تفصیلات عوام کے سامنے لائی جائیں گی، معاہدے کی حتمی منظوری کے بعد مکمل تفصیلات جاری کی جائیں گی۔غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے مطابق جاری کی گئی ممکنہ نکات کی تفصیلات میں بتایا گیا ہے کہ آبنائے ہرمز کو فوری طور پر بغیر کسی ٹول یا فیس کے دوبارہ کھول دیا جائے۔اس کے بدلے ایران پر پابندیوں میں نرمی یا ریلیف دیا جائے۔ جنگ بندی ڈیل میں ساٹھ دن کی توسیع ہو گی، جس کا اطلاق لبنان میں بھی ہوگا۔ اس عرصے کے دوران جوہری مذاکرات جاری رہیں گے۔معاہدے کے مطابق ایران یہ وعدہ کرے گا کہ وہ کبھی جوہری ہتھیار نہیں بنائے گا، اور اپنے افزودہ یورینیم کے معاملے پر جاری تنازع کو حل کرے گا۔ٹرمپ کے حالیہ بیان پر ایرانی وزارت خارجہ کا ردعمل سامنے آگیاسمندری تجارت اور جہازوں کی آمدورفت جنگ سے پہلے والی سطح پر واپس آ جائے گی۔ اس کے بدلے میں امریکا بھی اپنی ناکہ بندی ختم کر دے گا۔ ایران کو عارضی طور پر پابندیوں میں نرمی دی جائے گی تاکہ وہ ساٹھ دن تک اپنا تیل فروخت کر سکے۔ابتدائی معاہدے پر دستخط ہوتے ہی ایران منجمد اثاثوں کی فوری ادائیگی چاہتا ہے جبکہ امریکا مرحلہ وار اور شرائط پوری ہونے پر دینے کا خواہاں ہے۔نیوزویب سائیٹ کے مطابق امریکا اور ایران معاہدے کے مسودے پر اتفاق کر چکے ہیں، لیکن معاہدے کے نافذ ہونے سے پہلے دونوں جانب سے آخری منظوری ابھی باقی ہے۔صدر ٹرمپ کے امریکا ایران ڈیل کے اعلان نے اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو کو حیران کر دیا، کیونکہ انہیں اس پیش رفت کی توقع نہیں تھی۔