احمد آباد: ایئر انڈیا کے احمد آباد-لندن طیارہ حادثے کو ایک سال مکمل ہونے پر جمعہ کو مختلف مقامات پر دعائیہ اجتماعات اور یادگاری تقریبات منعقد کی گئیں۔ اس سانحے میں اپنے عزیزوں کو کھونے والے متعدد خاندان آج بھی شدید ذہنی، جذباتی اور مالی مشکلات سے گزر رہے ہیں اور حادثے کی وجوہات کے بارے میں واضح جواب ملنے کے منتظر ہیں۔12 جون 2025 کو ایئر انڈیا کی پرواز اے آئی-171 احمد آباد سے لندن کے لیے روانہ ہوئی تھی، لیکن اڑان بھرنے کے چند ہی لمحوں بعد طیارہ بی جے میڈیکل کالج کے طلبہ ہاسٹل کی عمارت سے ٹکرا کر تباہ ہو گیا تھا۔ اس حادثے میں وشواس کمار رمیش کے علاوہ طیارے میں سوار تمام افراد ہلاک ہو گئے تھے۔اس سانحے میں مجموعی طور پر 260 افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے، جن میں طیارے میں سوار 241 مسافر اور عملے کے ارکان کے علاوہ زمین پر موجود 19 افراد بھی شامل تھے۔حادثے میں اپنی 24 سالہ اہلیہ صادقہ بانو اور ڈھائی سالہ بیٹی فاطمہ کو کھونے والے 28 سالہ محمد شیٹھ والا اب بھی شدید مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ وہ اپنی اہلیہ کے ویزا پر انحصار کرتے ہوئے برطانیہ میں مقیم تھے۔ حادثے کے بعد انہوں نے انسانی بنیادوں پر اپنے ویزا میں توسیع کی درخواست دی، تاہم برطانیہ کی وزارت داخلہ نے اسے مسترد کر دیا۔محمد شیٹھ والا کا کہنا ہے کہ انہوں نے اپنی زندگی کی سب سے قیمتی چیزیں کھو دی ہیں اور انہیں اس صدمے سے نکلنے کے لیے مناسب وقت بھی نہیں دیا جا رہا۔ ان کے مطابق وہ مستقل رہائش کا حق نہیں مانگ رہے بلکہ صرف اتنا چاہتے ہیں کہ انہیں چند سال مزید برطانیہ میں رہنے کی اجازت مل جائے تاکہ وہ اپنی زندگی کو دوبارہ سنبھال سکیں۔متاثرہ خاندانوں کو اب بھی بھارت کے طیارہ حادثات تحقیقاتی بیورو کی عبوری رپورٹ کا انتظار ہے، جسے ایک سال کے اندر جاری کیا جانا تھا۔ لندن میں قائم قانونی فرم کسٹون لا، جو 25 برطانوی خاندانوں کی نمائندگی کر رہی ہے، کا کہنا ہے کہ متاثرین کے اہل خانہ یہ جاننے کا حق رکھتے ہیں کہ ان کے پیاروں کی جانیں کس وجہ سے ضائع ہوئیں۔فرم سے وابستہ ہوا بازی کے ماہر جیمز ہیلی پراٹ نے کہا کہ ایئر انڈیا اور اس کی بیمہ کمپنیوں کے ساتھ مکمل اور مناسب معاوضے کے لیے مثبت بات چیت جاری ہے۔ ان کے مطابق کوئی مالی معاوضہ جانوں کے نقصان کا بدل نہیں ہو سکتا، لیکن یہ متاثرہ خاندانوں کے دکھ اور نقصان کا اعتراف ضرور ہے۔ایئر انڈیا نے بتایا کہ اس نے متوفیوں کے اہل خانہ کو فوری ضروریات کے لیے 25-25 لاکھ روپے کی عبوری امداد فراہم کی ہے اور حتمی معاوضے کے معاملے پر خاندانوں سے مسلسل رابطے میں ہے۔برطانیہ کے شہر لیسٹر میں مقیم گجراتی برادری کے متعدد خاندان بھی اس سانحے سے متاثر ہوئے تھے۔ مقامی سماجی رہنما سنجیو پاٹل کے مطابق بیشتر خاندان اب بھی ذہنی اور مالی دباؤ کا شکار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ لوگ مختلف انداز میں اپنے غم کا سامنا کر رہے ہیں، جبکہ کئی خاندان نجی طور پر دعائیہ اجتماعات منعقد کر کے اپنے پیاروں کو یاد کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق متاثرین آج بھی ذہنی سکون، شفافیت، جوابدہی اور مستقبل کے بارے میں یقین دہانی کے منتظر ہیں۔