(5 جون 2026): امریکا ماضی میں مچھروں کو دشمنوں پر چھوڑ کر ان کے حیاتیاتی ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کے تجربات کرتا رہا ہے۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق امریکی دفاعی ادارے پینٹاگون کی حال ہی میں منظر عام پر آنے والی خفیہ دستاویزات سامنے آئی ہیں، جس ن ے دنیا میں تہلکہ مچا دیا ہے۔ان تہلکہ خیز خفیہ دستاویزات سے ماضی میں امریکا کے دشمن ممالک پر استعمال کی جانے والی جنگی حکمت کا انکشاف ہوا ہے اور بتایا گیا ہے کہ امریکا نے دہائیوں قبل دشمن ملکوں پر قاتل مچھر چھوڑنے کے تجربات کیے تھے۔برطانوی اخبار ڈیلی میل کی رپورٹ کے مطابق 1977 کی 69 صفحات پر مشتمل ڈی کلاسیفائیڈ دستاویز، جو اب امریکی دفاعی ادارے کے ریکارڈ میں دستیاب ہے، امریکی فوج کے خفیہ منصوبے پراجیکٹ بیل ویدر کی تفصیلات سامنے لائی ہے۔دستاویزات میں آپریشن ڈراپ کِک اور آپریشن بِگ بز سمیت کئی دیگر خفیہ منصوبوں کا بھی ذکر کیا گیا ہے، جن میں جنگی مقاصد کے لیے حشرات کے استعمال کا جائزہ لیا گیا۔رپورٹ کے مطابق ستمبر اور اکتوبر 1959 کے دوران امریکی فوج نے عملی تجربات کیے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ مختلف موسمی اور جغرافیائی حالات میں مچھر انسانوں کو کس حد تک کاٹتے ہیں اور کتنی مؤثر طریقے سے پھیل سکتے ہیں۔ان تجربات میں ایدیس اگیپتی نسل کے مچھروں کا استعمال کیا گیا، جو ڈینگی، زرد بخار، زیکا وائرس اور چکن گونیا جیسی خطرناک بیماریوں کے پھیلاؤ کے لیے مشہور ہیں۔دستاویز کے مطابق ان تجربات کا مقصد یہ جانچنا تھا کہ اگر مچھروں کے جھنڈ دشمن فوجیوں یا آبادی والے علاقوں میں چھوڑ دیے جائیں تو وہ کتنی دور تک سفر کر سکتے ہیں، کتنی دیر زندہ رہتے ہیں اور کیا وہ انسانوں کو تلاش کر کے کاٹنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔تاہم دستاویز میں واضح کیا گیا ہے کہ تجربات میں استعمال ہونے والے مچھر کسی بیماری سے متاثر نہیں تھے، محققین صرف ان کی نقل و حرکت، بقا اور انسانوں کو کاٹنے کے رویّے کا مطالعہ کر رہے تھے۔گوگل کا لاکھوں کی تعداد میں مچھر چھوڑنے کا منصوبہ تیار