تہران (10 جون 2026): ایران کی پاسداران انقلاب کا کہنا ہے کہ اس نے جنوبی ایران پر امریکی حملوں کے جواب میں بحرین میں امریکی پانچویں بحری بیڑے اور اردن میں ایک فضائی اڈے کو بالترتیب ڈرونز اور میزائلوں سے نشانہ بنایا ہے۔ایران کی سرکاری میڈیا کے مطابق جنوبی ایران پر امریکی حملوں کے جواب میں پاسداران انقلاب نے بحرین میں موجود امریکی پانچویں بحری بیڑے اور اردن میں اس فضائی اڈے پر ڈرون حملہ کیا جہاں امریکی فوجی اہلکار تعینات ہیں۔اردن کی فوج نے کہا ہے کہ اس نے ایران سے داغے گئے 5 میزائلوں کو فضا ہی میں روک کر تباہ کر دیا، جو ملک کے صوبہ زرقاء کے علاقے الازرق کو نشانہ بنا رہے تھے۔ بیان کے مطابق میزائلوں کو فضا میں تباہ کرنے کے نتیجے میں کچھ ملبہ زمین پر گرا، تاہم اس سے نہ کوئی جانی نقصان ہوا اور نہ ہی املاک کو نقصان پہنچا۔اردنی فوج نے مزید بتایا کہ میزائلوں کے باقی ماندہ حصوں کو محفوظ بنانے اور کسی بھی ممکنہ دھماکا خیز مواد کو ہٹانے کے لیے فوجی انجینئرنگ ٹیمیں تعینات کر دی گئی ہیں۔ بیان میں کہا گیا کہ اردن کی مسلح افواج اعلیٰ ترین سطح کی تیاری کی حالت میں ہیں اور ملک کی فضائی حدود کی کسی بھی خلاف ورزی کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا۔ایران کے خلاف فضائی حملے مکمل کر لیے، امریکی فوجدوسری طرف کویت کی فوج نے کہا ہے کہ وہ دشمن فضائی اہداف کو روکنے کی کارروائی کر رہی ہے۔ ایران نے اس سے قبل کہا تھا کہ امریکی افواج نے ملک کے جنوبی علاقوں میں کئی مقامات کو نشانہ بنایا، جن میں سیرک کا علاقہ بھی شامل ہے، جہاں دو پانی کے ٹینک تباہ ہونے کی تصدیق ہوئی ہے۔امریکی فوج نے ایران کے خلاف اپنی تازہ کارروائیوں کو سیلف ڈیفنس اور ایرانی حملوں کے جواب میں ’’متناسب ردعمل‘‘ قرار دیا ہے۔ امریکی فوج کے مطابق ان حملوں کی وجہ پیر کے روز آبنائے ہرمز کے اوپر ایک امریکی اپاچی ہیلی کاپٹر کو ایرانی فورسز کی جانب سے مار گرایا جانا بھی شامل ہے۔