دہرادون: اتراکھنڈ میں ایک بار پھر بادل پھٹنے کے واقعات نے تباہی مچا دی ہے۔ جمعرات اور جمعہ کی درمیانی شب رودرپریاگ اور چمولی اضلاع کے کئی علاقوں میں شدید بارش اور بادل پھٹنے کے بعد زمین کھسکنے، مکانات کے دبنے اور دریاؤں میں طغیانی کی اطلاعات ہیں۔ کئی خاندان ملبے میں دب گئے، جبکہ کئی مکانات پانی میں بہہ گئے۔ وزیر اعلیٰ پشکر سنگھ دھامی نے ان حادثات پر گہرے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے ریسکیو آپریشن کو تیز کرنے کی ہدایت دی ہے۔رپورٹ کے مطابق، یہ واقعہ تحصیل دیوال کے موپاٹا علاقے میں پیش آیا ہے، جہاں دو لوگوں کے لاپتہ ہونے کی خبر ہے۔ انتظامیہ نے راحت اور بچاؤ کا کام شروع کر دیا ہے۔ ادھر کیدار گھاٹی کے لوارا گاؤں میں پل بہہ جانے سے چھیناگاڑ علاقے میں صورتحال سنگین ہو گئی ہے۔ اس کے علاوہ رودرپریاگ ضلع میں الکنندہ اور منداکنی دریا بھی طغیانی پر ہیں، جن کا پانی گھروں میں گھس کر تباہی مچا رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ایک گئوشالہ بھی ملبے تلے دب گئی، جہاں تقریباً 15 سے 20 مویشیوں کے ہلاک ہونے کی خبر ہے۔ مقامی انتظامیہ اور ڈیزاسٹر مینجمنٹ ٹیمیں راحت اور بچاؤ کے کاموں میں مصروف ہیں۔رودرپریاگ میں دریائے الکنندہ اور منداکنی دونوں خطرے کے نشان سے اوپر بہہ رہی ہیں۔ ان دریاؤں کا پانی گھروں میں داخل ہو گیا ہے، جس کے باعث کئی رہائشی مقامات کو خالی کرایا گیا ہے۔ یہاں تک کہ رودرپریاگ کا تاریخی ہنومان مندر بھی پانی میں ڈوب گیا ہے۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال انہیں 2013 کی تباہ کن قدرتی آفت کی یاد دلا رہی ہے۔چمولی ضلع میں ہند-چین سرحد کو جوڑنے والا ملاری نیشنل ہائی وے بھی لینڈ سلائیڈنگ کے باعث بند ہو گیا ہے، جس سے ایک درجن سے زیادہ دیہات کا رابطہ تحصیل ہیڈکوارٹر سے کٹ گیا ہے۔ سڑک کو بحال کرنے کی کوششیں جاری ہیں، مگر مسلسل بارش کے سبب دشواریاں بڑھتی جا رہی ہیں۔شمالی ہند میں بربادی لاتی بارش: جموں و کشمیر سے اروناچل تک بادل پھٹنے اور لینڈ سلائیڈ سے ہلاکتیںضلعی انتظامیہ کے مطابق اب تک چار گھروں کے بہہ جانے کی اطلاع ہے، تاہم ان میں پھنسے افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا ہے۔ انتظامیہ نے لوگوں کو الرٹ رہنے کی اپیل کی ہے۔ صورتحال کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے رودرپریاگ، بگیشور، چمولی، ہریدوار اور پٹھور گڑھ اضلاع میں آج تمام اسکول اور آنگن واڑی مراکز بند رکھنے کے احکامات دیے گئے ہیں۔محکمہ موسمیات نے جمعہ کے لیے دہرادون، باگیشور، نینی تال اور پٹھور گڑھ میں اورنج الرٹ جاری کیا ہے، جبکہ دیگر علاقوں کے لیے یلو الرٹ برقرار ہے۔ اگلے دو دنوں میں بھی ریاست کے مختلف حصوں میں بھاری بارش کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔آندھرا: بارش کے سبب پیاز سمیت فصلیں تباہ، کسانوں کی بدحالی میں شدت؛ کانگریس کا 30 ہزار روپے فی ایکڑ معاوضے کا مطالبہوزیر اعلیٰ دھامی نے ایکس پر تحریر کیا کہ وہ حالات پر خود نظر رکھے ہوئے ہیں اور مسلسل افسران سے رابطے میں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’’ریسکیو ٹیموں کو پوری مستعدی کے ساتھ کام کرنے اور ضرورت مندوں کو فوری مدد فراہم کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔‘‘ریاست کے پہاڑی اضلاع میں جاری اس قدرتی آفت نے ایک بار پھر یہ سوال کھڑا کر دیا ہے کہ بار بار آنے والی ایسی تباہ کاریوں سے نمٹنے کے لیے طویل مدتی پالیسی اور مضبوط انفراسٹرکچر کی کتنی اشد ضرورت ہے۔