راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے سربراہ موہن بھاگوت نے دہلی میں منعقدہ ایک تین روزہ لیکچر سیریز کے خاتمے پر سوال جواب کے اجلاس میں کہا کہ سنگھ کاشی اور متھرا جیسی تحریکوں کی حمایت نہیں کرے گا۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ اگرچہ سنگھ بطور ادارہ ایسی تحریکوں کا حصہ نہیں بنے گا، لیکن اس کے رضاکار اپنی ذاتی خواہش کے مطابق ان تحریکوں میں شامل ہونے کے لیے آزاد ہیں۔ اس بیان نے سیاسی اور سماجی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے کیونکہ سنگھ کے کردار اور اس کے اثر و رسوخ کو ہمیشہ ہندوستانی سیاست میں اہم سمجھا جاتا رہا ہے۔موہن بھاگوت نے کہا کہ آر ایس ایس نے رام مندر کی تحریک میں براہِ راست شرکت کی تھی اور وہ واحد تحریک تھی جسے سنگھ نے ادارہ جاتی سطح پر اپنی حمایت دی۔ ان کے مطابق کاشی اور متھرا کے معاملات میں سنگھ بطور تنظیم کوئی کردار ادا نہیں کرے گا۔ واضح رہے کہ سنگھ کی اصل طاقت اس کے رضاکار ہیں، اور جب انہیں اس قسم کی تحریکوں میں شامل ہونے کی آزادی ہوگی تو دراصل یہ فرق زیادہ معنی نہیں رکھتا۔ ناقدین کے نزدیک یہی وہ نکتہ ہے جو اس اعلان کو متنازع بنا دیتا ہے، کیونکہ ادارے کے رضاکار اگر ذاتی حیثیت میں کسی تحریک میں شامل ہوں تو بالواسطہ طور پر یہ سنگھ کی موجودگی ہی سمجھی جائے گی۔سنبھل جامع مسجد تنازعہ: جوڈیشل کمیشن نے وزیر اعلیٰ یو پی کو سونپی رپورٹ، سماجوادی پارٹی نے تشویش کا اظہار کیایہ لیکچر سیریز دہلی کے وگیان بھون میں آر ایس ایس کے قیام کے سو برس مکمل ہونے کے موقع پر منعقد کی گئی تھی۔ آخری دن سوال و جواب کے سیشن میں موہن بھاگوت نے کھل کر یہ موقف رکھا کہ رام مندر کے بعد سنگھ کسی اور مذہبی تحریک کو اپنی باضابطہ حمایت نہیں دے گا۔ لیکن ان کے بیان کے اس حصے پر زیادہ توجہ دی گئی جس میں انہوں نے رضاکاروں کو کھلی آزادی دینے کی بات کی۔ سیاسی مبصرین کے مطابق یہ بیان ایک جانب سنگھ کو ادارہ جاتی سطح پر کسی تنازع میں الجھنے سے بچاتا ہے، تو دوسری طرف رضاکاروں کو اپنی سرگرمیوں کے لیے راستہ بھی فراہم کرتا ہے۔اپنے خطاب میں بھاگوت نے ہندو مسلم تعلقات پر بھی گفتگو کی۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان میں اسلام صدیوں سے موجود ہے اور مستقبل میں بھی اس کا وجود قائم رہے گا۔ ان کے مطابق ہندو اور مسلمان بنیادی طور پر ایک جیسے ہیں، ان کے درمیان فرق صرف عبادت کے طریقوں کا ہے۔ بھاگوت نے زور دیا کہ دونوں مذاہب کے پیروکاروں کو ایک دوسرے پر اعتماد کرنا چاہیے اور باہمی اعتماد ہی ملک کی ترقی کی بنیاد ہے۔آر ایس ایس کے سربراہ نے یہ بھی کہا کہ سنگھ مذہب کی بنیاد پر کسی پر حملے یا جبر میں یقین نہیں رکھتا۔ ان کے مطابق ہندوستانی معاشرہ ہمیشہ سے مختلف مذاہب اور ثقافتوں کے ساتھ جڑا رہا ہے، اس لیے یہاں باہمی ہم آہنگی ہی اصل طاقت ہے۔تاہم، اس خطاب کے باوجود ناقدین نے سنگھ کے رویے پر سوال اٹھائے ہیں۔ ان کے مطابق، اگرچہ سنگھ کا سربراہ زبانی طور پر ہندو مسلم اتحاد کی بات کرتا ہے، لیکن عملی طور پر سنگھ کے رویے نے اکثر ایسی فضا پیدا کی ہے جس نے خلیج کو بڑھایا ہے۔ خاص طور پر موب لنچنگ جیسے واقعات پر سنگھ کے نرم رویہ نے اس خلیج کو مزید بڑھایا ہی ہے۔