صدر جن پنگ اور صدر پوتن کے ساتھ نتیجہ خیز بات چیت کی توقع: مودی

Wait 5 sec.

چار روزہ سرکاری دورے پر روانہ ہونے سے قبل وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا کہ وہ جاپان اور چین کے دورے کے دوران اپنے جاپانی ہم منصب اور چین اور روس کے صدور کے ساتھ ساتھ کچھ دیگر عالمی رہنماؤں کے ساتھ نتیجہ خیز بات چیت کے منتظر ہیں۔ جمعرات کی شام جاپان اور چین کے چار روزہ دورے پر روانہ ہونے سے پہلے وزیر اعظم  نریندر مودی نے کہا کہ وہ جاپان میں ہونے والی 15ویں ہند-جاپان سالانہ چوٹی کانفرنس اور چین میں شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہی اجلاس کے مثبت نتائج کے تعلق سے پر امید ہیں۔وزیر اعظم نے کہا، " میں وزیراعظم شیگیرو اشیبا کی دعوت پر 15ویں سالانہ سربراہی اجلاس کے لیے جاپان کے دو روزہ دورے پر جا رہا ہوں۔ اپنے دورے کے دوران ہم اپنی خصوصی اسٹریٹیجک اور عالمی شراکت داری کے آئندہ مرحلے کی تشکیل پر توجہ مرکوز کریں گے، جس میں گزشتہ گیارہ برسوں میں مسلسل اور نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔"مرکزی حکومت کے ’آن لائن مَنی گیمز‘ پر پابندی کو ہائی کورٹ میں کیا گیا چیلنجانہوں نے کہا کہ دونوں ممالک باہمی تعاون کے شعبے کو نئی تحریک دینے، اپنے اقتصادی اور سرمایہ کاری کے تعلقات کے دائرہ کار اور عزائم کو وسعت دینے اور مصنوعی ذہانت (AI) اور سیمی کنڈکٹرز سمیت نئی اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز میں تال میل کو آگے بڑھانے کی کوشش کریں گے۔ انہوں نے کہا، "یہ دورہ ہمارے تہذیبی بندھن اور ثقافتی رشتوں کو مضبوط کرنے کا بھی موقع ہو گا جو ہمارے لوگوں کو جوڑتے ہیں۔"وزیراعظم  نریندر مودی نے کہا کہ جاپان سے وہ براہ راست چین جائیں گے اور ایس سی او کے سربراہی اجلاس میں شرکت کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ میں صدر شی جن پنگ کی دعوت پر تیان جن میں شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے چین کا سفر کروں گا۔وزیر اعظم  نے کہا، "ہندوستان شنگھائی تعاون تنظیم کا ایک فعال اور تعمیری رکن ہے۔ اپنی چیئرمین شپ کے دوران، ہم نے نئے خیالات پیش کیے اور اختراع، صحت اور ثقافتی تبادلے کے شعبوں میں تال میل کا آغاز کیا۔" انہوں نے کہا کہ ہندوستان مشترکہ چیلنجوں سے نمٹنے اور علاقائی تال میل کو مضبوط بنانے کے لیے شنگھائی تعاون تنظیم کے ارکان کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لیے پرعزم ہے۔انہوں نے کہا کہ وہ سربراہی اجلاس کے دوران صدر شی جن پنگ، صدر پوتن اور دیگر رہنماؤں سے ملاقات کے منتظر ہیں۔ انہوں نے یقین ظاہر کیا کہ ان کا دورہ ہندوستان کے قومی مفادات اور ترجیحات کو آگے بڑھائے گا۔ انہوں نے کہا، "مجھے یقین ہے کہ جاپان اور چین کے میرے دورے ہمارے قومی مفادات اور ترجیحات کو آگے بڑھائیں گے، اور علاقائی اور عالمی امن، سلامتی اور پائیدار ترقی کو بہتر بنانے میں نتیجہ خیز تعاون کی تعمیر میں کردار ادا کریں گے۔"