پیزشکیان کا کہنا ہے کہ ایران جوہری مذاکرات میں امریکی دباؤ کے سامنے نہیں جھکے گا۔یہ بیان ایران کے صدر مسعود پیزشکیان نے امریکی ہم منصب ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان کے ردعمل میں دیا ہے کہ وہ تہران کے جوہری پروگرام پر معاہدے پر مجبور کرنے کے لیے محدود حملوں پر غور کر رہے ہیں۔پیزشکیان کے تبصرے خلیج میں شدید کشیدگی کے درمیان سامنے آئے ہیں، جب کہ امریکہ نے دو طیارہ بردار بحری جہازوں اور درجنوں جیٹ طیاروں کی تعیناتی کے ساتھ اپنی فوجی موجودگی میں اضافہ جاری رکھا ہوا ہے۔ایرانی پیرا اولمپکس ٹیم کے ارکان کے اعزاز میں منعقدہ تقریب میں پیزشکیان نے کہا کہ "ہم ان میں سے کسی بھی مشکل کے سامنے نہیں جھکیں گے۔”انہوں نے کہا کہ عالمی طاقتیں ہمیں سر جھکانے پر مجبور کرنے کے لیے بزدلی کے ساتھ کمر بستہ ہیں جس طرح آپ نے مشکلات میں سر نہیں جھکایا اسی طرح ہم ان مسائل کے سامنے نہیں جھکیں گے۔ایران اور امریکہ نے اس ماہ کے شروع میں عمان میں تہران کے جوہری پروگرام پر بالواسطہ بات چیت کا دوبارہ آغاز کیا اور گزشتہ ہفتے سوئٹزرلینڈ میں دوسرا دور ہوا۔اگرچہ واشنگٹن اور تہران نے مذاکرات کو مجموعی طور پر مثبت الفاظ میں بیان کیا، لیکن وہ کوئی پیش رفت حاصل کرنے میں ناکام رہے۔