گجرات: اب والدین کو بتائے بغیر نہیں ہو سکے گی ’لو میرج‘، شادی رجسٹریشن کے قانون ہوں گے سخت

Wait 5 sec.

گجرات حکومت نے شادی کی رجسٹریشن سے متعلق قوانین میں اہم تبدیلی کی تجویز پیش کی ہے۔ 20 فروری کو ریاستی اسمبلی میں نائب وزیر اعلیٰ اور وزیر داخلہ ہرش سنگھوی نے گجرات میرج رجسٹریشن ایکٹ کے قوانین میں ترمیم کی تجویز پیش کی۔ حکومت کا کہنا ہے کہ یہ قدم بین المذاہب شادیوں میں دھوکہ دہی اور شناخت چھپا کر شادی کرنے جیسے واقعات پر روک لگانے کے لیے اٹھایا جا رہا ہے۔تجویز کے مطابق اب شادی کی رجسٹریشن کراتے وقت دولہا اور دلہن کو ایک حلف نامہ دینا ہوگا۔ اس میں یہ بتانا ہوگا کہ انہوں نے والدین کو شادی کے متعلق اطلاع دی ہے یا نہیں۔ درخواست میں دونوں فریق کے والدین کا نام، پتہ، آدھار نمبر اور موبائل نمبر دینا لازمی ہوگا۔ اسسٹنٹ رجسٹرار درخواست کی جانچ کے بعد 10 کام کے دنوں کے اندر والدین کو واٹس ایپ، ای میل یا دیگر ذرائع سے اطلاع بھیجے گا۔ حکومت کا ماننا ہے کہ اس سے خاندانوں کو برقت معلومات مل سکیں گی۔نئی تجویز کے تحت میرج سرٹیفکیٹ جاری کرنے میں 30 سے 40 دن تک کا وقت لگ سکتا ہے۔ اس دوران اگر کوئی اعتراض سامنے آتا ہے تو اس کی جانچ کی جائے گی۔ تمام دستاویزات آن لائن پورٹل پر اپلوڈ کرنے ہوں گے اور اس کے لیے الگ سے پورٹل بھی بنایا جائے گا۔ گواہوں کی تصاویر اور آدھار کارڈ بھی لازمی قرار دیے جائیں گے، تاکہ کسی بھی قسم کی دھوکہ دہی کو روکا جا سکے۔ہرش سنگھوی نے اسمبلی میں کہا کہ یہ فیصلہ بیٹیوں کے تحفظ اور سماجی نظام کو مضبوط کرنے کے لیے لیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ شناخت چھپا کر شادی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ حکومت کا دعویٰ ہے کہ گزشتہ چند سالوں میں ایسے کئی واقعات سامنے آئے ہیں، جہاں نوجوان لڑکیوں کو بہلا پھسلا کر دوسری ریاستوں میں لے جایا گیا۔قابل ذکر ہے کہ یہ تجویز فی الحال 30 دنوں تک عوام کے مشوروں اور اعتراضات کے لیے کھلی رہے گی، جس کے بعد حتمی قوانین نافذ کر دیے جائیں گے۔ دوسری جانب مہاراشٹر میں بھی اس طرح کے قوانین نافذ کرنے کا مطالبہ زور پکڑ رہا ہے۔ وہاں بھی کئی تنظیموں نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ نوجوان لڑکیوں کے تحفظ کے لیے سخت قوانین بنائے جائیں۔