آئی سی سی ٹی-20 ورلڈ کپ 2026 میں ہندوستانی ٹیم کو سپر-8 کے پہلے ہی مقابلے میں بڑے فرق سے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ احمدآباد کے نریندر مودی اسٹیڈیم میں جنوبی افریقہ نے ہندوستان کو 76 رنوں سے شکست دے کر سیمی فائنل کی راہ کو مشکل بنا دیا ہے۔ اس شکست کے ساتھ ہندوستانی ٹیم کی طویل جیت کا سلسلہ بھی ٹوٹ گیا۔ ٹی-20 ورلڈ کپ میں ہندوستان کو تقریباً 1200 دن بعد شکست کا سامنا کرنا پڑ۔ گزشتہ بار ٹیم کو 2022 کے سیمی فائنل میں شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔واضح رہے کہ سپر-8 میں ہر ٹیم کو اپنے گروپ میں 3 مقابلے کھیلنے ہیں اور ان میں سے صرف 2 ٹیمیں ہی سیمی فائنل میں جگہ بنائیں گی۔ ہندوستان اب اپنا پہلا میچ ہار چکا ہے۔ ٹیم کا اگلا مقابلہ زمبابوے اور ویسٹ انڈیز ہے۔ اگر ہندوستانی ٹیم کو آخری 4 میں جگہ بنانی ہے تو اسے ان دونوں مقابلوں میں ہر حال میں جیت حاصل کرنی ہوگی۔ یہی نہیں جیت کے ساتھ ساتھ ہندوستان کو بڑے فرق سے جیت حاصل کرنی ہوگی، تاکہ نیٹ رن ریٹ میں بہتری لائی جا سکے۔ بڑی شکست کی وجہ سے ٹیم کا رن ریٹ کافی نیچے چلا گیا ہے جو آگے چل کر نقصان پہنچا سکتا ہے۔اگر ہندوستان اگلا کوئی ایک بھی میچ ہار جاتا ہے تو سیمی فائنل کی امید تقریباً ختم ہو سکتی ہے۔ تاہم اگر ٹیم ایک میچ میں جیت حاصل کرنے میں کامیاب ہوتی ہے اور دوسری ہارتی ہے تو اسے دوسری ٹیموں کے نتائج پر منحصر رہنا پڑے گا۔ ایسے میں سیمی فائنل کی صورتحال کافی پیچیدہ ہو سکتی ہے۔قابل ذکر ہے کہ جنوبی افریقہ کے خلاف میچ میں ہندوستان کی گیند بازی اور بلے بازی دونوں ہی کمزور ثابت ہوئیں۔ جنوبی افریقہ کے شروع میں ہی 3 وکٹیں گرنے کے باوجود بھی ٹیم نے 187 رن بورڈ پر لگا دیے۔ ہندوستانی گیند باز رن روکنے میں ناکام رہے۔ جواب میں بیٹنگ لائن اپ دباؤ برداشت نہ کر سکی اور ہندوستانی ٹیم 111 رنوں پر ڈھیر ہو گئی۔ اب کپتان اور ٹیم مینجمنٹ کے سامنے سب سے بڑا چیلنج کھلاڑیوں کا حوصلہ بحال کرنا ہے۔ سپر-8 کے آئندہ 2 مقابلے ہندوستان کے لیے ’کرو یا مرو‘ جیسے ہیں۔ اگر ٹیم متوازن کارکردگی کا مظاہرہ کرتی ہے اور بڑی جیت درج کرتی ہے تو سیمی فائنل کی امید اب بھی زندہ رہ سکتی ہے۔