میکسیکو (24 فروری 2026): فوجی آپریشن میں مارا جانے والا منشیات اسمگلر سرغنہ ایل مینچو سیلزمین سے خطرناک مجرم کیسے بنا؟میکسیکو اس وقت میدان جنگ بنا ہوا ہے، جہاں ایک فوجی آپریشن میں ڈرگ لارڈ کہلانے والا منشیات اسمگلرز کا بدنام زمانہ سرغنہ نیمیسیو اوسیگیرا جو ایل مینچو کے نام سے مشہور تھا کی فوجی آپریشن میں ہلاکت کے بعد اس کے کارٹیل کے کارندے اب لبادہ بدل کر فوجی لباس پہن کر سیکیورٹی فورسز اور پولیس پر حملے کر رہے ہیں۔ایل مینچو کون تھا۔ اس حوالے سے العربیہ نے ایک رپورٹ شائع کی ہے۔ جس میں بتایا گیا ہے کہ خالیسکو نیو جنریشن کارٹل (CJNG) کے 59 سالہ سربراہ ایل مینچو نے عملی زندگی کا آغاز ایک معمولی سیلز مین کے طور پر کیا اور پھر وہ دنیا کے بڑے اسمگلروں میں شامل ہو گیا۔ایل مینچو 1966 میں پیدا ہوا اور انتہائی غربت میں پلا بڑھا۔ غربت کے باعث وہ پرائمری اسکول چھوڑ کر کھیتوں میں کام کرنے لگا۔ اس کے بعد 1980 کی دہائی میں غیر قانونی طور پر امریکا چلا گیا، جہاں 1989 میں منشیات فروشی کے جرم میں گرفتاری کے بعد اسے میکسیکو بے دخل کر دیا گیا۔ یہاں اس نے کچھ عرصہ مقامی پولیس میں بھی کام کیا۔بعد ازاں اس نے ایک گینگ لیڈر کی بہن روزالینڈا گونزالیز سے شادی کی اور منظم جرائم کی دنیا میں اہم مقام حاصل کر لیا۔اس کے بعد 2009-2010 کے قریب اس نے اپنا کارٹل قائم کیا، جو اس کی قیادت میں میکسیکو اور دنیا کا طاقتور ترین گروہ بن گیا۔یہ کارٹل کولمبیا سے ٹنوں کوکین بحری جہازوں اور آبدوزوں کے ذریعے اسمگل کرتا تھا۔ اوسیگیرا اپنے نیم فوجی حربوں اور بھاری ہتھیاروں سے لیس سیکڑوں تربیت یافتہ جنگجوؤں کی وجہ سے مشہور تھا، جن میں سے بعض کو کولمبیا کی سابق اسپیشل فورسز نے تربیت دی تھی۔"ایل مینشو” میکسیکو اور امریکہ کو مطلوب ترین افراد میں شامل تھا اور امریکا نے اس کی گرفتاری کے لیے 15 ملین ڈالر کا انعام رکھا تھا۔میکسیکو: منشیات فروش سرغنہ کی ہلاکت کے بعد ہنگامے، اموات 73 ہوگئیں”