واشنگٹن (24 فروری 2026): امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جنرل ڈینیئل کین سے منسوب خبر کی سختی سے تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران پر حملہ نہ کرنے کی خبریں جعلی ہیں۔ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کے روز سوشل میڈیا ’ٹروتھ سوشل‘ پر ایک پیغام میں جواب دیتے ہوئے کہا کہ کین کا ماننا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ ’’آسانی سے جیتی جا سکتی ہے۔‘‘ٹرمپ نے مزید لکھا ایران سے ممکنہ جنگ سے متعلق غلط خبریں پھیلائی گئیں، جنرل ڈین کین ہم باقی لوگوں کی طرح جنگ نہیں دیکھنا چاہتے لیکن اگر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کا فیصلہ ہوا تو وہ ایران کو اچھی طرح جانتے ہیں، اور ایران کے جوہری افزودگی کے پروگرام پر حملے کے آپریشن مڈ نائٹ ہیمر کے انچارج رہے ہیں۔واشنگٹن پوسٹ نے خبر دی تھی کہ جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئرمین جنرل ڈین کین نے گزشتہ ہفتے ایک ملاقات کے دوران امریکی صدر کو ایران پر حملے کے ممکنہ خطرات سے آگاہ کیا تھا، جن میں طویل تنازع میں الجھ جانے اور امریکی جانی نقصان کا خدشہ بھی شامل ہے۔دشمن جنگ شروع کرنے کے قابل ہو سکتے ہیں ختم کرنے کے نہیں، ایرانی نائب وزیر خارجہجنرل کین نے بتایا تھا کہ اہم اسلحہ اور گولہ بارود کی کمی اور علاقائی اتحادیوں کی حمایت نہ ہونے کی صورت میں اگر امریکا حملہ کرتا ہے تو ممکنہ ایرانی جوابی کارروائی کو محدود کرنے کی امریکی کوششیں متاثر ہو سکتی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق امریکی اسلحہ کے ذخائر (جن میں میزائل دفاعی نظام میں استعمال ہونے والا اسلحہ بھی شامل ہے) اسرائیل اور یوکرین جیسے اتحادیوں کی مدد میں استعمال ہونے کے باعث خاصے کم ہو چکے ہیں۔جنرل کین کے دفتر نے واشنگٹن پوسٹ کی خبر پر ردِعمل دیتے ہوئے کہا کہ ان کی ذمہ داری ہے کہ وہ فوجی اختیارات کی ایک مکمل رینج، نیز ثانوی پہلوؤں اور ان سے جڑے اثرات اور خطرات، اُن سویلین رہنماؤں کے سامنے پیش کریں جو امریکا کی سلامتی سے متعلق فیصلے کرتے ہیں۔اپنی پوسٹ میں ڈونلڈ ٹرمپ نے پھر کہا ہے کہ اگر ڈیل نہ ہوئی تو یہ ایران کے لیے بہت بُرا ہوگا، اگر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کا فیصلہ کیا تو یہ آسانی سے جیتی جانے والی کارروائی ہوگی، افسوس یہ وہاں کے لوگوں کے لیے بھی بُرا ہوگا، ایرانی عوام عظیم ہیں انھیں نقصان نہیں ہونا چاہیے۔