نئی دہلی: دہلی پولیس نے انڈین یوتھ کانگریس کے قومی صدر ادے بھانو چِب کو انڈیا اے آئی امپیکٹ سمٹ کے دوران ہوئے احتجاج کے سلسلے میں گرفتار کر لیا ہے۔ منگل کی صبح انہیں حراست میں لیا گیا اور بعد ازاں باضابطہ طور پر گرفتار کر کے عدالت میں پیش کیا گیا۔ اس کارروائی کے ساتھ ہی سیاسی ردعمل کا سلسلہ تیز ہو گیا ہے۔گرفتاری کے فوراً بعد کانگریس کے سینئر رہنما راہل گاندھی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا کہ پرامن احتجاج ہندوستان کی تاریخی روایت اور ہر شہری کا آئینی حق ہے۔ انہوں نے یوتھ کانگریس کارکنوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ ملک کے مفاد میں آواز اٹھانا جرم نہیں بلکہ حب الوطنی ہے۔راہل گاندھی نے کہا کہ امریکہ کے ساتھ تجارتی معاہدے میں ملک کے مفادات، کسانوں اور ٹیکسٹائل صنعت کے ساتھ ساتھ ملکی ڈیٹا کے تحفظ سے سمجھوتہ کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق سچ سامنے لانے پر گرفتاری آمرانہ ذہنیت کی علامت ہے۔کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے بھی سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ نوجوان روزگار کے مسئلے پر پریشان ہیں اور موجودہ حالات نے ان میں بے چینی پیدا کر دی ہے۔ انہوں نے وزیر اعظم نریندر مودی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے سامنے شرائط قبول کر کے ملک کو شرمندہ کیا گیا اور کسانوں کے مفادات کو نقصان پہنچایا گیا۔ کھڑگے نے کہا کہ اپوزیشن کو ڈرانے کی کوشش کی جا رہی ہے لیکن کانگریس جمہوریت اور آئین کے تحفظ کے لیے ہر سطح پر جدوجہد جاری رکھے گی۔کانگریس کی جانب سے جاری بیانات میں ادے بھانو چِب کی گرفتاری کو غیر آئینی قرار دیا گیا ہے۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ آئین ہر شہری کو احتجاج کا حق دیتا ہے اور اسے سلب کرنے کی کوشش جمہوری اقدار کے خلاف ہے۔ کانگریس نے واضح کیا کہ وہ اپنے کارکنوں کے ساتھ مضبوطی سے کھڑی ہے اور عوامی مسائل پر آواز اٹھاتی رہے گی۔واضح رہے کہ یہ معاملہ گزشتہ ہفتے بھارت منڈپم میں منعقدہ انڈیا اے آئی امپیکٹ سمٹ کے دوران پیش آیا تھا، جب یوتھ کانگریس کے کارکنوں نے بغیر شرٹ احتجاج کیا اور مرکزی حکومت کی پالیسیوں، بے روزگاری اور مصنوعی ذہانت سے متعلق امور پر نعرے بازی کی۔ پروگرام کے دوران احتجاج کے بعد پولیس نے مختلف دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا تھا۔اس کیس میں اب تک آٹھ افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے، جن میں جتیندر یادو، راجا گُرجر اور اجے کمار شامل ہیں۔ ان سب کے خلاف تلک مارگ تھانے میں مقدمہ درج ہے۔ دہلی پولیس کے مطابق معاملے کی تفتیش جاری ہے اور مختلف ریاستوں سے تعلق رکھنے والے افراد سے پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔ عدالت میں پولیس کی جانب سے حراست کی مدت بڑھانے کی درخواست بھی دی گئی ہے، جس پر سماعت متوقع ہے۔