کانگریس پارٹی نے وزیر اعظم نریندر مودی کے اسرائیل کے دورے پر سوال کھڑے کرتے ہوئے الزام لگایا کہ اس حکومت نے فلسطینیوں اور ان کے مفادات کو ترک کر دیا ہے۔ منگل کے روز کانگریس کے جنرل سکریٹری جے رام رمیش نے فلسطین کے تئیں ہندوستان کی دیرینہ پالیسی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ہندوستان فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے والے چند پہلے ممالک میں شامل تھا۔कब्जे वाले वेस्ट बैंक में हजारों फ़िलिस्तीनियों को बेदखल और विस्थापित करने की इजरायल की कार्रवाइयाँ तेज़ हो गई हैं और इसकी दुनिया भर में कड़ी निंदा हो रही है।ग़ज़ा में नागरिकों पर इजरायल के हमले बेरहमी से जारी हैं।इजरायल और अमेरिका, ईरान पर हवाई हमलों की योजना बना रहे हैं।…— Jairam Ramesh (@Jairam_Ramesh) February 24, 2026جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر اپنی پوسٹ میں کہا کہ اسرائیل کے زیر قبضہ مغربی کنارے سے ہزاروں فلسطینیوں کی بے دخلی اور بے گھر ہونے کی کارروائی تیز ہو گئی ہے جس کی دنیا بھر میں مذمت کی جا رہی ہے۔ غزہ میں شہریوں پر اسرائیل کے وحشیانہ حملے بلا روک ٹوک جاری ہیں۔ وہیں اسرائیل اور امریکہ ایران پر فضائی حملوں کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔ہندوستان کی فلسطین پر خاموشی انسانی اقدار سے دستبرداری کے مترادف: سونیا گاندھیانہوں نے کہا کہ پھر بھی وزیراعظم اپنے اس اچھے دوست نیتن یاہو کو گلے لگانے کے لیے کل اسرائیل کا سفر کر رہے ہیں جن پر بدعنوانی کے سنگین الزامات ہیں۔ اسرائیل میں اپوزیشن وہاں کی پارلیمنٹ میں مودی کے خطاب کا بائیکاٹ کرنے کی دھمکی دے رہا ہے۔ اپوزیشن اس بات پر احتجاج کر رہا ہے کیسے نیتن یاہو اسرائیل میں عدلیہ کی آزادی کو تباہ کر رہے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ مودی حکومت فلسطینیوں کے مفادات سے اپنی وابستگی کے بارے میں مشکوک اور منافقانہ بیانات دیتی ہے۔جے رام رمیش کا کہنا ہے کہ حقیقت یہ ہے کہ مودی حکومت نے انہیں (فلسطینیوں کو) چھوڑ دیا ہے، وہ یہ بھول گئی ہے کہ ہندوستان 18 نومبر 1988 کو فلسطین کو تسلیم کرنے والے اولین ممالک میں سے ایک تھا۔ خبروں کے مطابق مودی 25 فروری کو دو روزہ دورے پر اسرائیل جائیں گے۔ اس دوران ان کا کنیسٹ (اسرائیلی پارلیمنٹ) سے خطاب کرنے کا بھی پروگرام ہے۔ مودی اسرائیل کے وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو اور صدر اسحاق ہرزوگ سے بھی ملاقات کریں گے۔