دہلی ہائی کورٹ نے اپنے ایک اہم تبصرے میں کہا ہے کہ اگر کوئی مرد شادی کا وعدہ کر کے خاتون کے ساتھ جسمانی تعلقات قائم کرتا ہے اور بعد میں ’کنڈلی‘ نہ ملنے کا بہانہ بنا کر شادی کرنے سے انکار کر دیتا ہے تو یہ قانوناً جرم مانا جا سکتا ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ ایسے معاملات میں اس بات کا جائزہ لیا جائے گا کہ شادی کا وعدہ سچا تھا یا محض تعلقات قائم کرنے کے لیے کیا گیا تھا۔ یہ تبصرہ ایک ایسے معاملے کے بعد آیا ہے جس میں دہلی ہائی کورٹ میں دائر درخواست کے مطابق ملزم پر عصمت دری کا معاملہ درج ہے۔ اس پر تعزیرات ہند کی دفعہ 69 لگائی گئی ہے۔ دفعہ 69 ایسے معاملات سے متعلق ہے جہاں دھوکہ دہی یا شادی کے جھوٹے وعدے کی بنیاد پر جسمانی تعلقات قائم کیے جاتے ہیں۔ملازمت کا لالچ اور شادی کے نام پر دھوکہ سےعاجز آ کر خاتون کبڈی کھلاڑی نے کی خود کشیمتاثرہ نے الزام لگایا کہ ملزم اس کے ساتھ کافی عرصے سے تعلقات میں رہا اور شادی کے بہانے اس کے ساتھ بار بار جسمانی تعلقات قائم کرتا رہا۔ عدالت میں پیش کی جانے والی واٹس ایپ چیٹس میں یہ بھی اشارہ کیا گیا کہ ملزم نے خاتون کو یقین دلایا تھا کہ دونوں کی کنڈلی مل چکی ہے اور ان کی شادی میں کوئی رکاوٹ نہیں ہے۔ ایک میسیج میں اس نے یہاں تک لکھا کہ ’ ہم کل ہی شادی کر رہے ہیں‘‘۔ جس سے جلد شادی ہونے کا بھروسہ دیا گیا۔خاتون نے دہلی ہائی کورٹ میں کہا کہ اس نے پہلے بھی اپنی شکایت واپس لے لی تھی کیونکہ ملزم اور اس کے گھر والوں نے اسے شادی کا یقین دلایا تھا۔ تاہم ملزم نے بعد میں کنڈلی نہ ملنے کا حوالے دے کر شادی کرنے سے صاف انکار کر دیا۔ عدالت نے کہا کہ اگر کنڈلی کا ملان اتنا ضروری تھا تو اس کا فیصلہ شروع میں ہی طے ہو جانا چاہیے تھا، رشتہ قائم کرنے کے بعد نہیں۔ عدالت کے مطابق پہلے مسئلہ ختم ہونے کی یقین دہانی اور بعد میں اسی بنیاد پر شادی سے انکار کرنا اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ خاتون کی رضامندی دھوکے سے لی گئی ہو سکتی ہے۔ ان حالات کو دیکھتے ہوئے ہائی کورٹ نے ملزم کو راحت دینے سے انکار کر دیا اور اس کی درخواست ضمانت خارج کر دی۔