ایران پر ممکنہ حملہ، امریکا نے قطر اور بحرین سے فوجی واپس بلا لیے

Wait 5 sec.

واشنگٹن (23 فروری 2026): امریکا نے ایران سے بڑھتی کشیدگی کے پیش نظر قطر اور بحرین سے فوجی واپس بلا لیے۔امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے جمعہ کو پینٹاگون کے ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ ایران پر ممکنہ حملے کے پیش نظر امریکا نے قطر اور بحرین سے فوجی واپس بلا لیے ہیں، یہ اقدام احتیاطی تدابیر کے طور پر کیا گیا ہے۔رپورٹ کے مطابق قطر کے العدید ایئر بیس اور بحرین میں امریکی بحریہ کے ففتھ فلیٹ سے منسلک تنصیبات سے سیکڑوں اہلکاروں کی منتقلی عمل میں لائی گئی ہے۔ العدید ایئر بیس مشرق وسطیٰ میں امریکا کا سب سے بڑا فوجی اڈہ ہے، جہاں تقریباً 10 ہزار اہلکار تعینات ہیں اور یہ امریکی فضائی کارروائیوں کا بنیادی مرکز سمجھا جاتا ہے۔عراق، شام، کویت، سعودی عرب، اردن اور متحدہ عرب امارات سمیت مختلف ممالک میں امریکا کے فوجی دستے بدستور موجود ہیں۔ امریکا کو توقع ہے کہ تہران امریکی حملے کے جواب میں خطے میں موجود امریکی افواج کو نشانہ بنا سکتا ہے۔امریکا اور ایران کے درمیان جوہری مذاکرات کا اگلا دور جمعرات کو جنیوا میں ہوگاجمعرات کے روز اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل کو لکھے گئے ایک خط میں اقوامِ متحدہ میں ایران کے مشن کے سربراہ نے کہا کہ اگر ایران پر حملہ کیا گیا تو خطے میں موجود دشمن قوت کے تمام اڈے، تنصیبات اور اثاثے جائز اہداف تصور کیے جائیں گے، اور امریکا کسی بھی غیر متوقع اور بے قابو نتائج کی مکمل اور براہِ راست ذمہ داری اٹھائے گا۔